غزہ: حماس اور الفتح کا مفاہمت کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
فلسطین کے متحارب گروہوں حماس اور الفتح نے مفاہمتی معاہدے پر متفق ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آنے والے چند ہفتوں میں اتحادی حکومت تشکیل دیں گے۔
یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور اسرائیلی حکام کے مابین بات چیت ناکامی کے قریب ہیں۔
حماس اور فتح سنہ 2007 میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد الگ ہوگئے تھیں اور اس کے بعد سے اب تک ان کے درمیان مفاہمت نہیں ہو سکی۔
اسرائیل کے وزیراعظم نے دونوں تنظیموں کے مفاہمت کے اعلان پر کہا ہے کہ محمود عباس کو اسرائیل سے امن یا حماس سے امن میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔
بن یامین نتن یاہو نے متنبہ کیا کہ ’آپ ان میں سے ایک ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ امن کا انتخاب کریں گے لیکن ابھی تک تو ایسا نہیں لگ رہا۔‘
فلسطینی حکام نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مفاہمت فلسطین کا اندرونی معاملہ ہے اور اس سے عوام کو متحد کرنے میں اور قیامِ امن میں مدد ملے گی۔
محمود عباس نے رواں ہفتے مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی تنظیم کا ایک وفد غزہ بھیجا تھا۔
بدھ کو مفاہمت کا اعلان ایک نیوز کانفرنس میں کیا گیا جس میں فتح اور حماس کے نمائندے موجود تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان دونوں گروپوں نے کہا ہے کہ وہ ایک عبوری اتحادی حکومت کے قیام کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کے سربراہ محمود عباس ہوں گے۔
دونوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطین میں آئندہ چھ ماہ میں پارلیمانی انتخابات منعقد کروائے جائیں گے۔
غزہ میں حماس کی حکومت کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ ’یہ ہمارے عوام کے لیے خوش خبری ہے۔ تقسیم کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘
غزہ میں فلسطینی عوام نے اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے جشن منایا اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
یروشلم میں بی بی سی کے یولاندے نیل کا کہنا ہے کہ عام فلسطینی ایک عرصے سے دونوں تنظیموں کے اتحاد کے منتظر تھے کیونکہ ماضی میں دوہا اور قاہرہ میں ہونے والے مفاہمتی معاہدوں پر عمل نہیں ہو سکا تھا۔







