اسرائیل کا فلسطینی قیدی رہا کرنے سے انکار

،تصویر کا ذریعہAFP
فلسطینی رہنماؤں کی جانب سے اقوام متحدہ میں اپنی شناخت بڑھانے کی پاداش میں اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کے چوتھےگروپ کو رہا کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
اسرائیل کی وزیر انصاف زپی لِونی نے کہا ہے کہ فلسطینیوں نے اپنے اقدامات سے قیدیوں کی رہائی کی شرائط سے رو گردانی کی ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں فلسطینی رہنما محمود عباس نے اقوام متحدہ کی پندرہ یاداشتوں پر فلسطینیوں کی جانب سے دستخط کرنے کے لیے درخواست کی ہے جن میں اسرائیل پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھا ہے۔
فلسطینیی قیدیوں کی رہائی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے عمل کا حصہ ہے جسے امریکہ کا تعاون حاصل ہے۔
اسرائیلی وزیر انصاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اب اسرائیل چاہتا ہے کہ امن کے عمل کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔
ایک اسرائیلی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قیدیوں کو رہا نہ کرنے کے فیصلے سے فلسطینیوں کو ایک میٹنگ میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ترجمان نے مذید کہا کہ مِس لِونی نے فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات لینا چھوڑیں اور مذاکرات کی میز پر واپس آ جائیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے فلسطینی قیدیوں کے تین گروپوں کی رہائی کو اسرائیلی عوام نے بالکل پسند نہیں کیا تھا کیونکہ رہائی پانے والے قیدیوں میں کئی ایسے افراد تھے جنھیں اسرائیلیوں کو قتل کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







