فلسطین کو جرات مندانہ اقدام کرنا ہوں گے: اوباما

محمود عباس نے صدر اوباما سے کہا کہ وہ مذاکرات میں اسرائیل کی سنجیدگی دیکھنا چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمحمود عباس نے صدر اوباما سے کہا کہ وہ مذاکرات میں اسرائیل کی سنجیدگی دیکھنا چاہتے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے کہا ہے کہ امن کے لیے انھیں چند جرات مندانہ اقدامات لینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس میں اخباری نمائندوں سے مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاست کا حل ہاتھ نہیں آ رہا ہے لیکن آنے والے ہفتوں میں اس میں پیش رفت کی امید کی ہے۔

محمود عباس نے کہا کہ وہ بات چیت کے موجودہ دور کو تاریخی موقع تصور کرتے ہیں۔

امریکہ دونوں فریقوں (اسرائیل اور فلسطین) سے یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک ’فریم ورک‘ معاہدے کو منظوری دیں جس کے بعد حتمی معاہدے کے لیے دی جانے والی ڈیڈ لائن جولائی سے بات آگے بڑھے۔

لیکن فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے امکانات ’دن بدن معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔‘

تین سال تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد گذشتہ جولائی میں امریکی صدر اوباما اور وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیل اور فلسطین کو بات چیت کی میز پر آنے کے لیے راضی کر لیا اور اس وقت کہا تھا کہ ’ہمارا ہدف آئندہ نو مہینوں میں معاہدہ کی حتمی حیثیت حاصل کرنا ہے۔‘

اگرچہ بات چیت خفیہ طور پر ہوئی ہے تاہم اس بابت کسی پیش قدمی کا کوئی عندیہ نہیں ملا ہے اور اب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ’خلیج کو پار کرنے کے لیے‘ کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے کی کوشش کر ہیں تاکہ بات چیت کا یہ سلسلہ 29 اپریل کے بعد بھی جاری رہ سکے۔

سوموار کو فلسطین کے علاقے رملّا میں صدر محمود عباس کی حمایت میں جلوس نکالا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسوموار کو فلسطین کے علاقے رملّا میں صدر محمود عباس کی حمایت میں جلوس نکالا

حل طلب مسائل میں اسرائیل اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحدیں، یروشلم کی حیثیت، اسے یہودی ریاست تسلیم کیے جانے پر بضد اسرائیل، فلسطین کا پناہ گزینوں کو ان کے گھروں کو واپسی کا مطالبہ جو کہ اب اسرائیل کا حصہ ہیں اور غرب اردن میں سکیورٹی جیسے امور شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اردن کی وادی میں اسرائیل طویل مدتی موجودگی چاہتا ہے۔

سوموار کو فلسطینی رہنما کے ساتھ بات چیت کے آغاز پر صدر اوباما نے کہا تھا: ’اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں بعض سخت سیاسی فیصلے اور رسک لینے پڑیں گے۔ مجھے امید ہے کہ ہم آنے والے دنوں میں اس میں پیش رفت کریں گے۔‘

مسٹر عباس نے کہا کہ انھیں امید تھی کہ بات چیت شروع ہونے کے معاہدے کے تحت اسرائیلی حکام طویل عرصے سے قید 26 فلسطینیوں کے چوتھے بیچ کو 29 مارچ تک رہا کردیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سے جاری امن مذاکرات کے سلسلے میں اسرائیل کی سنجیدگی کے بارے میں ٹھوس تاثرات ملیں گے۔‘

دوسری جانب اسرائیلی وزراء نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر امن مذاکرات میں توسیع کا کوئی معاہدہ نہیں ہو پاتا ہے تو انھیں قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے منظوری دینے میں دشواری پیش آئے گي۔

اس سے قبل پی ایل او کے اہلکار نے کہا تھا ان کی مذاکراتی ٹیم یہ محسوس کرتی ہے کہ اسرائیلی ٹیم میں ’ان کا کوئی شراکت دار نہیں ہے۔‘