غزہ سے راکٹ حملے اور اسرائیلی فضائی کارروائی جاری

،تصویر کا ذریعہ.
غزہ میں مسلح جنگجوؤں اور اسرائیل کے درمیان راکٹ اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ فلسطینی حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں جانب سے امن معاہدہ قائم ہو گیا ہے۔
جمعرات کے روز اسرائیلی علاقوں پر متعدد راکٹ حملے کیے گئے جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے جوابی فضائی کاروائیاں کیں ہیں۔
فلسطینی جنگجو گروپ اسلامک جہاد نے اس سے قبل کہا تھا کہ 2012 کی جنگ بندی کو بحال کرنے کے لیے معاہدہ طے پا چکا ہے۔ اسرائیل نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔
2012 میں تنازع کے حل کے بعد سے ایک دن میں سب سے زیادہ راکٹ حملے گذشتہ بدھ کو کیے گئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس روز تقریباً 60 راکٹ اسرائیل پر داغے گئے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ سات مبینہ ’دہشتگرد ٹھکانوں‘ پر فضائیہ کے حملوں کے بعد جمعرات کو اسرائیل پر آٹھ راکٹ داغے گئے۔
اسرائیل میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ تین فلسطینی افراد زخمی ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ایک دن قبل ہی اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اسلامی جہاد کی طرف سے بدھ کو اسرائیل میں راکٹ فائر کرنے کے بعد ان کے جنگی طیاروں نے غزا کی پٹی میں 29 فلسطینی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ’اسرائیل پر ایک بڑے راکٹ حملے کے جواب میں اسرائیل کی فضائیہ نے غزا کی پٹی میں 29 دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس کی تصدیق کی گئی ہے۔‘
اسرائیلی فوج کے سربراہ ترجمان لیفٹیننٹ پیٹر لرنر نے بیان میں کہا کہ’یہ جوابی کارروائی فوری اور صحیح نشانے پر کی گئی۔ ہم نے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں شدت پسند ٹریننگ اور حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔‘
اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی طرف جانے والا راستہ بھی بند کر دیا ہے۔
بدھ کو اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے جنوبی اسرائیل میں 30 سے زیادہ راکٹ داغے۔ اسرائیل کے ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ پانچ میزائل گنجان آباد شہری علاقوں میں گرے۔ انھوں نے کہا کہ دیگر میزائلوں کو آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا۔
اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اس نے یہ راکٹ منگل کو اسرائیل کی فضائی بمباری میں ان کے تین کارکنوں کی ہلاکت کے جواب میں فائر کیے۔
دا وائس آف اسرائیل ریڈیو نے بدھ کو کہا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورس نے راکٹ حملے کے جواب میں غزا کی پٹی کی طرف جانے والا راستہ بند کر دیا ہے۔
ریڈیو نے اسرائیل کے وزیرِ دفاع موشی یالان کے حوالے سے بتایا کہ تشدد میں اضافے کا ذمہ دار حماس ہے اور اس نے خبردار کیا کہ اس کے لیے حماس کو ’بھاری قیمت‘ ادا کرنی پڑے گی۔
لیکن ادھر حماس نے بھی اسی قسم کے ایک اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ ’ہمارے مجاہدین نے صیہونی جارحیت کے جواب میں درجنوں راکٹ داغے ہیں۔‘
حماس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ’راکٹ ہمارے خلاف قابض جارحیت کے خلاف فائر کیے گئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہوگیا۔‘







