’مغرب ایران پر منافقت سے کام لے رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہ.
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے عالمی برادری پر ایران کے معاملے میں ’منافقت سے کام لینے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
نتن یاہو نے یہ بات اس وقت کہی ہے جب اسرائیلی فوج نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں بنائے گئے ایرانی ہتھیاروں کی ایک کھیپ مبینہ طور پر غزہ بھجوائی جا رہی تھی۔
انھوں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ بیرنس کیتھرین ایشٹن کی ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران ’مصاحفوں اور مسکراہٹوں‘ پر تنقید کی جنہوں نے گزشتہ ہفتۂ آخر میں تہران کا دورہ کیا۔
ایران نے ان ہتھیاروں کے کھیپ کے پیچھے ہونے کے الزام کو ’ناکام جھوٹ‘ کا پلندہ کہہ کر رد کر دیا ہے۔
حماس کے ترجمان نے اس الزام کو ایک ’بیوقوفانہ جھوٹ‘ قرار دیا۔
اسرائیل کی بحریہ نے بدھ کے روز بحیرۂ احمر میں پاناما کے ایک بحری جہاز کو بحیرۂ احمر میں روکا جس پر مبینہ طور پر درجنوں M302 راکٹ لدے ہوئے تھے جن کی مار 150 کلومیٹر سے 200 کلومیٹر تک ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان ہتھیاروں پر اسرائیلی حکام نے مبینہ طور پر کئی مہینوں سے نظر رکھی ہوئی تھی جب یہ دمشق سے تہران اور پھر اس کے بعد ایران کی ایک جنوبی بندرگاہ کی جانب لےجائے گئے جہاں سے انھیں پاناما کے اس بحری جہاز ’کلوس-سی‘ پر لادا گیا جو پھر عراق روانہ ہوا جہاں سے سیمنٹ کے کنٹینر لادے گئے۔
پیر کو نتن یاہو نے کہا کہ ’دنیا کی جانب سے بظاہر ان ہتھیاروں کی دریافت کو نظر انداز کر کے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات ’اس دورِ منافقت کی علامت ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’یہ بحری جہاز ایران کی جانب سے حاصل کیا گیا، اس پر سازوسامان ایران نے بھجوایا، پیسے ایران نے دیے اور میزائیل بھی ایران نے لادے۔‘
نتن یاہو نے کہا کہ ’اب حسبِ توقع ایران ان حقائق کو جھٹلا رہا ہے بلکہ اس کا وزیرِ خارجہ اسے’بیوقوفانہ جھوٹ‘ کہتے ہیں جبکہ یہ ایران ہے جو جھوٹ بول رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل کے رہنما نے کہا کہ انھوں نے چند ایک رہنماؤں کی جانب سے اس ’قاتلانہ ڈلیوری‘ کی مذمت سنی ہے جو بیرنس ایشٹن کے تہران کے دورے سے چند دن قبل کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم یروشلم کے مضافات میں ایک بالکونی بھی بناتے ہیں تو ہمیں عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل کی ریاست کے خلاف مذمتوں کا واویلا سنائی دیتا ہے۔‘
نتن یاہو عرصے سے اس بات کا دعویٰ کر ہے ہیں کہ مغرب ایران کی جانب سے سفارتی پیش رفت سے بیوقوف بن رہا ہے جو گزشتہ سال اگست میں ایرانی صدر روحانی کے انتخاب کے بعد شروع ہوئے جنہیں معتدل مزاج قرار دیا جا رہا ہے۔
بیرنس ایشٹن سے ملاقات کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں پر معاہدہ اگلے چار مہینوں میں ممکن ہو سکے گا۔







