ایران نے اسرائیلی الزامات مسترد کر دیے

اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل موتی الموز کا کہنا ہے کہ کلوس سی ایرانی جہاز کے ذریعے 150 سے 200 کلو میٹر مار کرنے والے ایم 302 نامی درجنوں میزائل اسرائیلی بندرگاہ آئیلات بھیجے جا رہے تھے

،تصویر کا ذریعہIDF

،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل موتی الموز کا کہنا ہے کہ کلوس سی ایرانی جہاز کے ذریعے 150 سے 200 کلو میٹر مار کرنے والے ایم 302 نامی درجنوں میزائل اسرائیلی بندرگاہ آئیلات بھیجے جا رہے تھے

ایران نے اسرائیل کی جانب سے اس پر غزہ کے عسکریت پسندوں کو شامی ساختہ راکٹ بھیجنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ایران کے وزیرِخارجہ محمد جاوید ظریف نے اسرائیلی الزامات کو ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ الزامات امریکہ اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کانفرنس (اے آئی پی اے سی) کی گذشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس کے عین موقع پر عائد کیے گئے۔

ایرانی وزیرِخارجہ محمد جاوید ظریف نے اسرائیلی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ الزامات اے آئی پی اے سی کے اجلاس کے فوراً بعد ہی کیوں عائد کیے گئے؟

انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا ’یہ عجیب اتفاق ہے کہ ایرانی جہاز عین اسی وقت پکڑا گیا جب اے آئی پی اے سی کا سالانہ اجلاس جاری تھا۔‘

دوسری جانب فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ترجمان نے اسرائیلی الزامات کو بے وقوفانہ مذاق قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے بدھ کو کہا تھا کہ اس نے غزہ کی جانب گامزن ایرانی ہتھیاروں سے لدے ایک بحری جہاز کو روکا تھا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے ایرانی جہاز پر راکٹ ملے تھے جسے اس نے قبضے میں لے لیا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل موتی الموز کا کہنا ہے کہ کلوس سی ایرانی جہاز کے ذریعے 150 سے 200 کلو میٹر مار کرنے والے ایم 302 نامی درجنوں میزائل اسرائیلی بندرگاہ آئیلات بھیجے جا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جہاز پر شاید دوسرے ہتھیار بھی ہوں تاہم اس بارے میں اس وقت معلوم ہو سکے گا جب یہ جہاز اسرائیلی بندرگاہ آئیلات پہنچے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہماری معلومات بالکل واضح ہیں کہ یہ ہتھیار ایران ہی سے آئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ کئی ماہ سے ان ہتھیاروں کی کھوج لگا رہے تھے اور انھیں شام سے تہران اور اس کے بعد جنوبی ایران کی ایک بندر گاہ تک لے جایا گیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ان ہتھیاروں کو کلوس سی نامی ایرانی جہاز پر لادا گیا جہاں سیمنٹ کے کنٹینرز بھی موجود تھے۔