غزا کی پٹی پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری

فلسطین میں عینی شاہدین اور صحافیوں نے کہا کہ جنگی طیاروں نے حماس کے رہنماؤں اور اسلامی جہاد کے مسلح شاخ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفلسطین میں عینی شاہدین اور صحافیوں نے کہا کہ جنگی طیاروں نے حماس کے رہنماؤں اور اسلامی جہاد کے مسلح شاخ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسلامی جہاد کی طرف سے بدھ کو اسرائیل میں راکٹ فائر کرنے کے بعد ان کے جنگی طیاروں نے غزا کی پٹی میں 29 فلسطینی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ’اسرائیل پر ایک بڑے راکٹ حملے کے جواب میں اسرائیل کی فضائیہ نے غزا کی پٹی میں 29 دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس کی تصدیق کی گئی ہے۔‘

اسرائیلی فوج کے سربراہ ترجمان لیفٹیننٹ پیٹر لرنر نے بیان میں کہا کہ’یہ جوابی کارروائی فوری اور صحیح نشانے پر کی گئی۔ ہم نے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں شدت پسند ٹریننگ اور حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔‘

فلسطین میں عینی شاہدین اور صحافیوں نے کہا کہ جنگی طیاروں نے حماس کے رہنماؤں اور اسلامی جہاد کی مسلح شاخ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے غزا کی پٹی کی طرف جانے والا راستہ بھی بند کر دیا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے جنوبی اسرائیل میں 30 سے زیادہ راکٹ داغے۔ اسرائیل کے ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ پانچ میزائل گنجان آباد شہری علاقوں میں گرے۔

انھوں نے کہا کہ دیگر میزائلوں کو آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا۔

غزا کی پٹی میں نومبر سنہ 2012 میں کشیدگی ختم ہونے کے بعد یہ پہلا بڑا راکٹ حملہ تھا۔

اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اس نے یہ راکٹ منگل کو اسرائیل کی فضائی بمباری میں ان کے تین کارکنوں کی ہلاکت کے جواب میں فائر کیے۔

دا وائس آف اسرائیل ریڈیو نے بدھ کو کہا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورس نے راکٹ حملے کے جواب میں غزا کی پٹی کی طرف جانے والا راستہ بند کر دیا ہے۔

ریڈیو نے اسرائیل کے وزیرِ دفاع موشی یالان کے حوالے سے بتایا کہ تشدد میں اضافے کا ذمہ دار حماس ہے اور اس نے خبردار کیا کہ اس کے لیے حماس کو ’بھاری قیمت‘ ادا کرنی پڑے گی۔

لیکن ادھر حماس نے بھی اسی قسم کے ایک اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ’ہمارے مجاہدین نے صیہونی جارحیت کے جواب میں درجنوں راکٹ داغے ہیں۔‘

حماس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ’راکٹ ہمارے خلاف قابض جارحیت کے خلاف فائر کیے گئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہوگیا۔‘