یوکرین خانہ جنگی کے دہانے پر ہے: روسی صدر

اس کارروائی کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس کارروائی کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہے

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین ’خانہ جنگی کے دہانے‘ پر کھڑا ہے۔

انہوں نے یہ بات جرمن چانسلر انگلیلا میرکل سے فون پر بات کرتے ہوئے کہی۔

روسی صدر نے یوکرین کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ یہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

کریملن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر نے جرمن چانسلر کو بتایا کہ یوکرین میں تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورتحال کے باعث ملک خانہ جنگی کے دہانے پر آ کھڑا ہوا ہے۔

تاہم بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ جمعرات سے شروع ہونے والی بات چیت کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات سے یوکرین کی صورتحال پر روس، یورپی یونین، امریکہ اور یوکرین کے درمیان بات چیت ہو گی۔

اس سے قبل یوکرین کے عبوری صدر الیکساندر تورچینوف نے روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے خلاف ’انسداد دہشت گردی‘ کا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یوکرین کی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونستک کے شمالی میں ان کارروائیوں کو آغاز انتہائی ذمہ دارنہ انداز میں کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سرکاری فوجوں نے کرماتورسک کے شہر کے ہوائی اڈے پر روس کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ عبوری صدر کا کہنا ہے کہ روس کے حامی مسلح افراد کو سرکاری عمارتوں سے ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم وہاں اس کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے کہا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں روس نواز گروپوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انھیں واپس جانے کے لیے کہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے دفتر کی ایک رپورٹ کے مطابق یوکرین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے یوکرین کو دوبارہ متنبہ کیا ہے کہ وہ روس کے حامی مسلح افراد کے خلاف کارروائی نہ کرے۔ تاہم یوکرین کے عبوری صدر تورچینوف نے پارلیمان کو بتایا کہ ملک کے مشرقی علاقے دونیسک میں سرکاری عمارتوں سے مسلح افراد کو بےدخل کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔

اس کارروائی کی نوعیت ابھی واضح نہیں لیکن روسی ذرائع ابلاغ میں علیحدگی پسندوں کے حوالے سے غیرمصدقہ بیانات کے مطابق یوکرین کی فوج سلو ویناسک اور کرماٹورسک کے قصبوں کے قریب حرکت میں آئی ہیں۔

اس پر سرگے لاوروف کا کہنا تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کیئف میں موجودہ رہنما جو کر رہے ہیں وہ مبہم ہے۔ ہم واضح طور پر اس کی مذمت کرتے ہیں اور یوکرین اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی والی سکیورٹی فورسز اور فوجی یونٹس کو مظاہروں کو کچلنے کے لیے روانہ کرنے جیسے اقدامات فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

روسی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے امن فوج کی تعیناتی کی تجویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے بیجنگ میں کہا کہ ایک جانب مذاکرات کی بات اور دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کے خلاف ’فوج کشی‘ جیسے مجرمانہ حکم جاری نہیں کیے جا سکتے۔

ادھر جنیوا میں یوکرین کے سفیر نے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو روس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ملک کے مشرقی حصوں میں روسی سپیشل فورسز کی موجودگی کے شواہد پیش کرے گا۔

ان مذاکرات کا اہتمام امریکہ اور یورپی یونین نے کیا ہے۔ یوری کلے منکو کا کہنا تھا کہ بات چیت کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا ہے، یوکرین کے اندرونی معاملات پر بات کرنا نہیں۔اس میں کرائمیا اور یوکرین کے فیڈریشن بننے پر بھی بات نہیں ہوگی۔

یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں ایک ہجوم نے روس کے حامی سیاستدان اولگ تسریو پر اس وقت انڈے پھینکے اور انھیں زدوکوب کیا جب وہ ٹی وی سٹوڈیو سے جا رہے تھے۔

اس کے بعد مسٹر تسریو نے انکار کیا کہ انہوں نے یوکرین میں روسی مداخلت کی حمایت کی تھی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کیئف میں غیرمسلح مظاہرین کی ہلاکتوں سمیت حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

عالمی ادارے کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں کرائمیا کی یوکرائن سے آزادی کے لیے ریفرینڈم میں دھاندلی کی باوثوق رپورٹیں ملی ہیں۔

لیکن ان تفتیش کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین میں بدامنی کی بنیادی وجوہات غلط معلومات پھیلانا اور تشدد پر اکسانا ہیں۔

اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ ان خلاف ورزیوں میں برکوٹ نامی خصوصی پولیس فورس کا ہاتھ ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے پرانے مسائل کو جیسے کہ اعلیٰ سرکاری سطح پر بدعنوانی، نسلی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، نفرت پھیلانا اور عدلیہ کا جانبدار نظام شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین میں امن قائم کرنا ہے تو ان مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔

گذشتہ ماہ روس کی جانب سے کرائمیا پر قبضے کے بعد سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کارروائی کی مغربی ممالک نے مذمت کی تھی۔