یوکرین کا روس کےحامی مسلح افراد کےخلاف آپریشن شروع

،تصویر کا ذریعہn
یوکرین کے وزیر داخلہِ آرسین آواکوف نے کہا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقے سلووینسک میں سکیورٹی فورسز نے متعدد سرکاری عمارتوں کو روس کے حامی مسلح افراد کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے آپریش شروع کیا ہے۔
یوکرین کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ’فریقین کو جانی نقصان پہنچا ہے‘۔ تاہم اس کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔
دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین کے حکام کی جانب سے ملک کے مشرقی حصوں میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی سے مجوزہ مذاکرات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
اتوار کو یوکرین کے وزیرِ داخلہ آرسین آواکوف نے کہا کہ سلووینسک میں روس کے حامیوں اور یوکرین کی سکیورٹی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپوں میں کم از کم یوکرین کا ایک افسر ہلاک ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور شہری گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔
وزیر داخلہ کے مطابق مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی اور ان جھڑپوں میں فریقین کو جانی نقصان پہنچا ہے تاہم اس کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے یوکرین کو متبنہ کرنے سے متعلق بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب اتوار کو ہی عسکریت پسندوں نے یوکرین کے شمالی شہر کراماتورسک میں پولیس کے صدر دفتر پر حملے کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ نے مشرقی یوکرین میں بڑھتے ہوئے تشدد میں روس کے کردار کی شدید مذمت کی ہے۔جمعرات کو جنیوا میں یوکرین، روس، امریکہ اور یوپی یونین کے درمیان مذاکرت ہو نے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسے پہلے یوکرین کے مقامی میڈیا اور عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ کہ روس کے حامی عسکریت پسندوں نے شمالی یوکرین کے شہر کراماتورسک کے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے۔
اس کے نتیجے میں حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا کیونکہ پولیس اس عمارت کو بچانا چاہ رہی تھی۔
سنیچر کو بھی دونتسک کے علاقے میں کئی سرکاری عمارتوں پر قبضے کی اطلاعات ملی ہیں۔
یہ تصادم یوکرین میں نئی حکومت اور روس حامی مظاہرین کے درمیان کشیدگی کا نتیجہ ہیں۔
واضح رہے کہ مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کی کثیر آبادی ہے اور وہاں روس کے حامی صدر وکٹر یانوکووچ کی معذولی کے بعد سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
یوکرین کی نئی حکومت روس پر مشرقی یوکرین میں بدامنی پھیلانے کا الزام لگاتی ہے جبکہ روس اس کی تردید کرتا ہے۔
روس حامی ملیشیا خود کو عوامی فوج کہہ رہے ہیں
اس سنگین صورت حال کے درمیان امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سرگے لاوروف سے بات کی ہے۔
روسی وزیر خارجہ لاوروف نے متنبہ کیا کہ ’مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کے خلاف طاقت کے کسی بھی استعمال کے نتیجے میں ممکنہ تعاون متاثر ہو سکتا ہے جس میں آئندہ ہفتے جنیوا میں ہونے والی گفتگو بھی شامل ہے۔‘
دریں اثنا ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن آئندہ 10 دنوں میں یوکرین کا دورہ کرنے والے ہیں۔
کراماتورسک کی ایک ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ حملہ آور سنیچر کو دو بسوں میں بھر کر شہر میں مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے داخل ہوئے اور انھوں نے کئی منٹ تک جاری رہنے والی فائرنگ کے بعد محکمۂ پولیس پر قبضہ کرلیا۔
ووشٹوچنیئي پرویک نامی ویب سائٹ نے کہا کہ اس تصادم میں کسی بھی جانی نقصان کی خبر نہیں ہے تاہم قبضے کے بعد عمارت پر دونتسک کا پرچم لہرایا گيا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
حملہ آور رائفلوں سے لیس تھے اور انھوں نے چہروں کو ماسک اور دوسری چیزوں سے چھپا رکھا تھا۔ انھوں نے اپنا تعارف ’عوامی ملیشیا کے طور پر دیا اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم یوکرینی فوج نہیں ہیں۔ ہم عوام کے جنگجو ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو بدعنوان کیئف پولیس کو بھگانے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل کارگذار وزیر داخلہ آرسین آواکوو نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا تھا کہ کراماتورسک میں فائرنگ جاری ہے۔
غیر مصدقہ ویڈیو فوٹیج میں فائرنگ کی مسلسل آواز سنائی دے رہی ہے۔
اس سے قبل سنیچر کو شمالی یوکرین کے کئی شہروں میں بدامنی پھیلی رہی حالانکہ یوکرین کی حکومت نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ ختم کرنے کے لیے جمعے کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی تھی۔







