یوکرین: ’انسدادِ دہشتگردی‘ مہم کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAFP
یوکرین کے عبوری صدر الیکزندر ٹوچیونوف نے روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے خلاف ’انسداد دہشت گردی‘ کے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یوکرین کی پارلمیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونستک کے شمالی میں ان کارروائیوں کو آغاز انتہائی ذمہ دارنہ انداز میں کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سرکاری فوجوں نے کرماتورسک کے شہر کے ہوائی آڈے پر روس کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
عبوری صدر کا کہنا ہے کہ روس کے حامی مسلح افراد کو سرکاری عمارتوں سے اتارنے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم وہاں اس کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے کہا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں روس نواز گروپوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انھیں واپس جانے کے لیے کہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے دفتر کی ایک رپورٹ کے مطابق یوکرین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں مرتکب ہوئی ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگی لیوروف نے دوبارہ یوکرین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ روس کے حامی مسلح افراد کے خلاف کارروائی نہ کرے۔ یوکرین کے عبوری صدر الزینذر ٹوچینوف نے پارلمیان کو بتایا کہ ملک کے مشرقی علاقے ڈونسک میں سرکاری عمارتوں سے مسلح افراد کو بےدخل کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی مرحلہ وار اور ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دی جا رہی ہے۔ اس کارروائی کی نوعیت ابھی واضح نہیں لیکن روسی ذرائع ابلاغ میں علیدگی پسندوں کے حوالے سے غیرمصدقہ بیانات کے مطابق یوکرین کی فوج سلو ویناسک اور کرماٹورسک کے قضبوں کے قریب حرکت میں آئی ہیں۔
اس پر سرگئی لیوروف کا کہنا تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’کیو میں موجودہ رہنما جو کر رہے ہیں وہ مبہم ہے۔ ہم واضح طور پر اس کی مذمت کرتے ہیں اور یوکرین اور بین لاالقوامی قوانین کی خلاف ورزی والی سکیورٹی فورسز اور فوجی یونٹس کو مظاہروں کو کچلنے کے لیے روانہ کرنے جیسے اقدامات فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔
روسی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے امن فوج کی تعیناتی کی تجویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے بیجنگ میں کہا کہ ایک جانب مذاکرات کی بات اور دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کے خلاف ’فوج کشی‘ جیسےمجرمانہ حکم جاری نہیں کیے جا سکتے۔
ادھر جنیوا میں یوکرین کے سفیر نے کہا ہے کہ وہ ملک کے مشرقی حصوں میں روسی سپیشل فورسز کی موجودگی کے شواہد جعمرات کو روس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش کرے گا۔
ان مذاکرات کا اہتمام امریکہ اور یورپی یونین نے کیا ہے۔ یوری کلے منکو کا کہنا تھا کہ بات چیت کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا ہے یوکرین کے اندرونی معاملات پر بات کرنا نہیں۔اس میں کرائمیا اور یوکرین کے فیڈریشن بننے پربھی بات نہیں ہوگی۔
یوکرین کے دارالحکومت کیو میں ایک ہجوم نے روس کے حامی سیاستدان اولگ تسریو پر اس وقت انڈے پھینکے اور انہیں زدوکوب کیا جب وہ ٹی وی سٹوڈیو سے جا رہے تھے۔
اس کے بعد مسٹر تسریو نے انکار کیا کہ انہوں نے یوکرین میں روسی مداخلت کی حمایت کی تھی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کیو میں غیرمسلح مظاہرین کی ہلاکتوں سمیت حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔
عالمی ادارے کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں کرائمیا کی یوکرائن سے آذادی کے لیے ریفرینڈم میں دھاندلی کی باوثوق رپورٹس ملیں ہیں۔
لیکن ان تفتیش کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرائین میں بدامنی کی بنیادی وجوہات غلط معلومات پیھلانا اور تشدد پراکسانا ہیں۔
اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ ان خلاف ورزیوں میں برکوٹ نامی خصوصی پولیس فورس کا ہاتھ ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یوکرائن کے پرانے مسائل کو جیسے کہ اعلٰی سرکاری سطح پر بدعنوانی، نسلی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، نفرت پھیلانہ اور عدلیہ کا جانندار نظام شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین میں امن قائم کرنا ہے تو ان مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔
گزشتہ ماہ روس کی جانب سے کرائمیا پر قبضے کے بعد سے کشدیگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کارروائی کی مغربی ممالک نے مذمت کی تھی۔







