مجرم کا پولیس افسر بننے کا خواب

میں ایک سو سے زیادہ جرائم سرزد کر چکی تھی: نیٹلی ایٹکنسن
،تصویر کا کیپشنمیں ایک سو سے زیادہ جرائم سرزد کر چکی تھی: نیٹلی ایٹکنسن

24 سالہ نیٹلی ایٹکنسن اپنی نو عمری میں عادی مجرم تھیں مگر وہ اپنی زندگی میں بہتری لانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ آج وہ بیان کرتی ہیں کہ جیلوں سے رہا ہونے والے نوجوانوں کو زیادہ مدد کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔

’اگر مجھ سے کوئی پوچھتا کہ میں بڑے ہو کر کیا بننا چاہتی ہوں تو میں کہتی پولیس افسر۔ آج میں یونیورسٹی آف کمبریا سے پولیس کے طریقۂ کار، تفتیش اور جرمیات کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ لندن سکول آف اکنامکس سے فوجداری پالیسی سازی میں ماسٹرز کی ڈگری کر سکوں گی۔

تاہم چند ہی سال قبل میں فوجداری عدالتی نظام کے بارے میں پڑھ نہیں رہی تھی بلکہ اس کی قید میں تھی۔

نیٹلی ایٹکنسن کہتی ہیں:’میں ایک سو سے زیادہ جرائم سرزد کر چکی تھی جن میں مار پیٹ کرنا، املاک کو نقصان پہنچانا اور حملے کے جرم میں 50 سے زائد سزائیں شامل ہیں۔‘

پہلے میں بچوں کے لیے خصوصی قید خانوں میں وقت گزار رہی تھی اور پھر 18 سال کی عمر تک پہنچنے پر میں جیل میں جا پہنچی۔

18 سال کی عمر تک پہنچنے تک میں بچوں کے 25 مختلف قید خانوں میں رہائش رکھ چکی تھی۔ میں لینکسٹر شہر کے مرکزی سکوئر میں وقت گزارنے لگی اور کوڑا کرکٹ اٹھانے لگی۔

میری سزاؤں میں پولیس افسروں کا بڑا ہاتھ تھا اور میں جیسی تھی اس پر اب مجھے خود انتہائی قصوروار محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ میرا خود پر کوئی قابو نہیں تھا اور مجھے کوئی سمجھا بھی نہیں سکتا تھا۔

میرے خیال میں حکام کے خلاف بغاوت کر رہی تھی اور میرے میں غصے کا بھی مسئلہ تھا۔ جب میں بچوں کے لیے خصوصی گھروں میں جاتی تو مجھے ایسا لگتا کہ میرا خیال رکھنے والوں کوئی حق نہیں کہ وہ مجھے بتائیں کہ میرا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ پولیس والے ایک ’اتھارٹی‘ کی علامت ہوتے ہیں اور میں جیسے ہی کسی پولیس والے سے ملتی تو میرا خیال یہی ہوتا کہ یہ مجھے نہیں بتا سکتے کہ میں کیا کروں۔

میں نے زیادہ تر جرائم شراب کے نشے میں کیے۔

میں نے زیادہ تر جرائم شراب کے نشے میں کیے: نیٹلی ایٹکنسن
،تصویر کا کیپشنمیں نے زیادہ تر جرائم شراب کے نشے میں کیے: نیٹلی ایٹکنسن

میری زندگی ایک چکر میں پھنسی ہوئی تھی اور میں انہی قید خانوں میں جانا پسند کرتی تھی کیونکہ وہاں میں خود کو محفوظ سمجھتی تھی۔

جب میں 18 سال کی ہوئی تو مجھے خواتین کی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ میری فائل میں کیونکہ دوسروں پر حملے کرنے اور لڑنے جیسے جرائم تھے اس لیے مجھے سنگین جرائم والی قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا جہاں قاتل اور جنسی زیادتی کرنے والے لوگ تھے۔ جیل کے اس حصہ میں ہر وقت تشدد اور جارحیت تھی۔

جیلوں میں قید تقریباً 50 فیصد خواتین اور مردوں کا ایک چوتھائی حصہ شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا ہیں۔

میرے اس جیل میں پہنچنے کے چند ہی روز میں ایک خاتون نے اپنی جان لے لی۔ میں جیل میں شدید غم کا شکار ہوگئی، تنہا محسوس کرنے لگی اور خود کو نقصان پہنچانے لگی۔ اس کے علاوہ میں ہیروئن سے ملتی جلتی ایک منشیات بھی لینے لگی۔

چھوٹے عرصے کی سزائیں کاٹنے والے قیدیوں میں سے 60 فیصد دوبارہ جرم کرتے ہیں۔ میں اپنی زندگی میں بہتری جیل کے بعد مثبت حوصلہ افزائی کے بعد ہی لا سکی۔ میں خوش قسمت تھی کہ مجھے میرے لیے مختص کیے گئے اُس سماجی کارکن کی مدد حاصل تھی جو کہ نو عمر بچوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ وہ میری 18 سال کی عمر کے بعد بھی مدد کرتے رہے۔

تعلیم نے مجھے سکھایا کہ میں اپنے تجربات دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کر سکتی ہوں۔ اسے لیے میں کالج جانے لگی۔

مجھے جیل سے رہائی کے بعد 46.50 پاؤنڈ کا سٹینڈرڈ ’رہائی معاوضہ‘ دیا گیا۔ اس کے علاوہ میرے پاس صرف وہ کپڑے تھے جو میں نے پہن رکھے تھے۔ رہائش ڈھونڈنے میں میری کوئی مدد نہیں کی گئی اور میری خوش قسمتی تھی کہ میں ایک دوست کے گھر رہ سکی۔ جیل سے رہا ہونے والے تقریباً 40 فیصد افراد کو رہائش تلاش کرنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔

مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ نوکری تلاش کرنا ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں انٹرویو میں لوگوں کو اپنے ماضی کے بارے میں بتاتی تھی تو ان کے چہرے پر جیسے خوف آ جاتا تھا۔

پہلے میں نوکریاں تلاش کرنے کے لیے بنائے گئے مراکز کے چکر لگاتی رہی۔ پھر میں نے رضاکارانہ طور پر کام کرنا شروع کر دیا تاکہ میرا حوصلہ اور عزتِ نفس میں بہتری ہو۔

اب میں بے گھر افراد کے ایک ہاسٹل میں کام کرتی ہوں اور میں اپنا ماضی ان لوگوں کی مدد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہوں جو میرے جیسے مسائل سے گزر رہے ہیں۔

نو عمری کی قید کی وجہ سے کچھ لوگ تو بنیادی کام بھی سیکھ نہیں سکے جیسے کہ کھانا پکانا۔ ایک دفعہ میں لندن سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ سفٹن نامی شخص سے ملی جو کہ نو عمری میں جیلوں میں قید رہا تھا۔

’جیل میں آپ کے سارے کام کوئی اور کرتا ہے۔ میں ایک واشنگ مشین بھی استعمال نہیں کر سکتا۔ میں کھانا نہیں بنا سکتا۔ میرے لیے چائے کا ایک کپ بنانا بھی انتہائی مشکل ہے۔ جیل میں بند رہنے کی ذہنی اذیّت آپ کے لیے آسان سے آسان کام ناممکن بن جاتا ہے۔‘

آپ کو اپنا ماضی سمجھنے کے لیے آپ کو اس کو پہلے قبول کرنا ہوگا اور پھر آپ کو دیکھنا ہوگا کہ آپ کے رویے کی وجہ سے دوسروں پر کیا اثر پڑا ہے۔

میں چاہوں گی کہ میں انصاف کے نظام کو تبدیلی اور بہتری کے لیے استعمال کروں جہاں مجرم کو اپنے جرائم کی ذمہ داری لینے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔