آسٹریلیا: ڈرون سے جیل میں منشیات پہنچانے کی کوشش ناکام

ماضی میں بھی ڈرونز یا بغیر پائلٹ کے اڑنے والی اشیا کو جیلوں میں چیزیں سمگل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنماضی میں بھی ڈرونز یا بغیر پائلٹ کے اڑنے والی اشیا کو جیلوں میں چیزیں سمگل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے

آسٹریلیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو مبینہ طور پر ایک ڈرون کے ذریعے ایک جیل میں منشیات پہنچانے کی کوشش کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتوار کی دوپہر کو ملبرن کی ایک جیل کی فضائی حدود کے قریب ایک ڈرون اڑ رہا تھا۔ بیان کے مطابق بظاہر اس ڈرون کے چار انجن ہیں اور اس پر منشیات کی چھوٹی ہی مقدار لدی ہوئی تھی۔

مذکورہ شخص پر منشیات کی تقسیم کے سنگین جرم کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ملزم ضمانت پر رہا ہیں اور آئندہ ہفتے عدالت میں پیش ہوں گے۔

ماضی میں بھی ڈرونز یا بغیر پائلٹ کے اڑنے والی اشیا کو جیلوں میں چیزیں سمگل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نومبر میں امریکی ریاست جارجیہ میں چار افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ریموٹ کنٹرول ہیلی کاپٹر کی مدد سے کیلہون ریاستی جیل میں تمباکو پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

نومبر میں کینیڈا کے علاقے کیوبک میں بھی ایک جیل کے اوپر ڈرون دیکھا گیا تھا۔

آسٹریلیا کی پارلیمان نے حال ہی میں ڈرونز اور پرائیویسی کے حوالے سے ایک اجلاس کا انعقاد کیا۔ اس اجلاس کے دوران آسٹریلیا سرٹیفائڈ یو اے وی آپریٹرز اسوسی ایشن کے سیکرٹری بریڈ مینس نے کہا تھا کہ ملک میں ڈرون طیاروں کا بہت زیادہ غیر قانونی استعمال ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ حکومتی ادارے اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی بہترین کوششیں کر رہے ہیں مگر بدقسمتی سے یہ اس قدر آسانی سے مسیر ہیں اور اس قدر سستے ہیں کہ ہر کوئی انھیں حاصل کر سکتا ہے۔‘