اسرائیل کے شامی فوجی تنصیبات پر فضائی حملے

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں پر ہونے والی بمباری میں اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر شام کی کئی فوجی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جن فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ان میں فوجی صدر دفتر، ایک تربیت گاہ اور توپخانے شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق شامی فوج نے منگل کو سرحدی باڑ کے قریب گشت پر مامور فوجیوں پر حملہ کیا۔
تاحال اس فضائی حملے پر شامی فوج کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی تاحال کسی قسم کی ہلاکت کی کوئی اطلاع ہے۔
تین سال قبل شام میں بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیل نے اس کی حدود میں متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔
ان حملوں کا جواز یہ دیا جاتا رہا کہ کہ ان کی مدد سے شامی صدر بشار الاسد کی حامی لبنانی تنظیم حزب اللہ کی راکٹوں کی فراہمی کو روکا جا سکے۔ تاہم حالیہ حملوں کو جوابی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔
بیت المقدس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں کا ہدف بنائے گئے مقامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ واضح طور پر اپنے فوجیوں پر حملے کا ذمہ دار شامی فوج کو سمجھتی ہے نہ کہ باغیوں یا حزب اللہ کے جنگجوؤں کو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں کی جانے والی جوابی کارروائی میں اسرائیلی فوج نے توپخانے کا استعمال کیا ہے تاہم اس مرتبہ جنگی جہازوں کے استعمال سے واقعہ کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے آغاز پر اسراییل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ ان کا ملک اپنے خلاف کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گا۔
انھوں نے کہا کہ: ’ہماری پالیسی سادہ ہے، جو ہمیں نقصان پہنچائے گا ہم اسے نقصان پہنچائیں گے۔‘
گولان کی پہاڑیاں شام کی جنوب مغربی سرحدی علاقے کی چٹانوں پر مشتمل علاقہ ہے۔







