شام: فوج کا یبرود شہر پر از سر نو قبضے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہ
شام کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے باغیوں کے قبضے والے شہر یبرود پر از سر نو قبضہ کر لیا ہے۔ یہ شہر لبنان کی سرحد سے متصل ہے اور باغیوں کے مضبوط گڑھ کے طور پر جانا جاتا تھا۔
شامی حکومت کے فوجی اور ان کے لبنانی حامی گروپ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے کئی ہفتوں سے اس شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ یہاں لڑائی نقل و حمل کے اہم راستے پر قبضے کے لیے جاری تھی۔
ایک علیحدہ واقعے میں حزب اللہ کے دو ارکان شام کی سرحد کے قریب لبنان کی بیکا وادی میں ایک کار بم دھماکے میں مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اس گروپ کے اس جنگ میں شامل ہونے کے بعد شیعہ مسلک کے افراد جنگجوؤں کے نشانے پر ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کم از کم تین افراد النبی عثمان گاؤں میں ایک پٹرول سٹیشن کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے میں مارے گئے ہیں۔
لبنانی النصرت نامی ایک دھڑے نے ٹوئیٹر پر اپنے ایک بیان میں اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس نے لکھا ہے ’یہ ایرانی جماعت (حزب اللہ) کے شیخی بازوں کا یبرود کے سلسلے میں فوری جواب ہے ۔‘
یہ واضح نہیں کہ شام میں بر سر پیکار النصرت محاذ سے اس کا کیا تعلق ہے۔ النصرت القاعدہ سے منسلک ایک جماعت ہے جو صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑ رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہn
ایک دوسری جماعت بال بیک کی لواء الاحرار السنّہ نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اسے ’یبرود کے بدلے‘ سے تعبیر کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت نے لبنانی سرحد کے قریب واقع قلامون پہاڑوں سے جنگجوؤں کو نکالنے کے لیے گذشتہ نومبر کے نصف میں مہم کا آغاز کیا تھا۔
اس دوران انھوں نے دمشق اور حمص کو جوڑنے والی سڑک کے درمیان یبرود کے شمال مشرق میں واقع قارہ، دیر عطیہ اور النبک شہروں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔
فروری کے وسط میں صدر بشار الاسد کی فوج نے یبرود پر پوری قوت کے ساتھ حملہ کیا جہاں گذشتہ تین برسوں کی خانہ جنگی کے دوران زیادہ عرصے تک باغیوں کا قبضہ رہا تھا۔
اتوار کو ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ ’دہشت گردوں کی پسپائي قلامون میں شامی فوجوں کی مسلسل جیت کا حصہ ہے۔‘
اس طرح لبنان اور شام کے درمیان ایک محفوظ دائرے کی تکمیل ہوتی ہے اور اس سے رسد کی فراہمی کا راستہ بھی بند ہوجاتا ہے۔
واضح رہے کہ حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار نے یبرود میں چند شامی فوجیوں کو گھومتے دکھایا ہے جہاں گلیاں اور راستے سنسان نظر آ رہے ہیں۔
شامی سرکاری میڈیا نے بہت سے باغیوں کے مارے اور قید کیے جانے کی بات کہی ہے۔







