شام کے پناہ گزین بچے

فوٹو گرافرگلس ڈولے نے ایک غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن کے ہمراہ اردن کے زعتری کیمپ کا دورہ کیا تاکہ جنگ کے باعث بے گھر ہو جانے والے بچوں کے بارے میں جان سکیں۔

فوٹو گرافرگلس ڈولے نے ایک غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن کے ہمراہ اردن کے زعتری کیمپ کا دورہ کیا تاکہ جنگ کے باعث بے گھر ہو جانے والے بچوں کے بارے میں جان سکیں۔
،تصویر کا کیپشنفوٹو گرافرگلس ڈولے نے ایک غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن کے ہمراہ اردن کے زعتری کیمپ کا دورہ کیا تاکہ جنگ کے باعث بے گھر ہو جانے والے بچوں کے بارے میں جان سکیں۔
ڈولے کا کہنا ہے کہ ’میں اپنی تصاویر میں لوگوں کو دکھانا چاہتا تھا نہ کہ مہاجرین کی خیمہ بستی کو اسی لیے میں نے لوگوں کو ایک سفید پس منظر کے ساتھ عکس بند کیا تاکہ یہ خیمہ بستی سے الگ ہو جائیں اور تصویر صرف ان کی کہانی بیان کرے۔‘ اس تصویر میں فدا اپنے تین سالہ پوتے باسم کے ساتھ ہیں۔
،تصویر کا کیپشنڈولے کا کہنا ہے کہ ’میں اپنی تصاویر میں لوگوں کو دکھانا چاہتا تھا نہ کہ مہاجرین کی خیمہ بستی کو اسی لیے میں نے لوگوں کو ایک سفید پس منظر کے ساتھ عکس بند کیا تاکہ یہ خیمہ بستی سے الگ ہو جائیں اور تصویر صرف ان کی کہانی بیان کرے۔‘ اس تصویر میں فدا اپنے تین سالہ پوتے باسم کے ساتھ ہیں۔
ان بچوں میں سے اکثر اس خیمہ بستی کو ہی اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ 35 سالہ نسرین نے شام میں لڑائی کے باعث ملک چھوڑا، اس تصویر میں وہ اپنے ایک سالہ بیٹے فیصل کے ہمراہ ہیں۔
،تصویر کا کیپشنان بچوں میں سے اکثر اس خیمہ بستی کو ہی اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ 35 سالہ نسرین نے شام میں لڑائی کے باعث ملک چھوڑا، اس تصویر میں وہ اپنے ایک سالہ بیٹے فیصل کے ہمراہ ہیں۔
35 برس کی حالہ چھ ماہ کے ثمر کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں ایک سال اور ایک ماہ سے اردن میں ہوں۔ جب میں نے شام چھوڑا اس وقت میں حاملہ تھی۔ ایک شیل نے ہمارا گھر تباہ کر دیا اور ہمیں وہاں سے نکلنا پڑا۔ میں اپنا وقار گنوانے پر موت کو ترجیح دو ں گی۔‘
،تصویر کا کیپشن35 برس کی حالہ چھ ماہ کے ثمر کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں ایک سال اور ایک ماہ سے اردن میں ہوں۔ جب میں نے شام چھوڑا اس وقت میں حاملہ تھی۔ ایک شیل نے ہمارا گھر تباہ کر دیا اور ہمیں وہاں سے نکلنا پڑا۔ میں اپنا وقار گنوانے پر موت کو ترجیح دو ں گی۔‘
’میں ایک سال دو ماہ سے زعتری کیمپ میں ہوں۔‘ 30 سالہ سوہا ایک برس کے رامی اور تین برس کے ہادی کے ساتھ ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’یہاں سب سے بدترین چیز بیمار ہونا ہے۔ سخت موسم اور گندگی کے باعث صحت مند رہنا دشوار ہے۔ حالانکہ اردن میں شام کی نسبت علاج کروانا آسان ہے۔ ہمارے شام چھوڑنے سے قبل طبی سہولیات پر حملے ہو رہے تھے اس لیے وہاں جانا مشکل تھا۔ اپنی پرانی زندگی کو پیچھے چھوڑ آنا بہت کٹھن اور مایوس کن ہے۔ یہاں میں مکمل تنہائی میں کا شکار ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشن’میں ایک سال دو ماہ سے زعتری کیمپ میں ہوں۔‘ 30 سالہ سوہا ایک برس کے رامی اور تین برس کے ہادی کے ساتھ ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’یہاں سب سے بدترین چیز بیمار ہونا ہے۔ سخت موسم اور گندگی کے باعث صحت مند رہنا دشوار ہے۔ حالانکہ اردن میں شام کی نسبت علاج کروانا آسان ہے۔ ہمارے شام چھوڑنے سے قبل طبی سہولیات پر حملے ہو رہے تھے اس لیے وہاں جانا مشکل تھا۔ اپنی پرانی زندگی کو پیچھے چھوڑ آنا بہت کٹھن اور مایوس کن ہے۔ یہاں میں مکمل تنہائی میں کا شکار ہوں۔‘
’مجھے میرا گھر یاد آتا ہے۔ ماں ہونے کے ناطے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات سب سے تکلیف دہ چیز ہیں۔ میں خدا کی اس تحفظ کے لیے شکر گزار ہوں لیکن یہاں ہر دن ایک جد وجہد ہے۔ میں شام میں اپنی معمول کی زندگی کو یاد کرتی ہوں۔‘ 32 سالہ بسما کی پانچ برس کی بیٹی ھنا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’میں اپنے بچوں کے تعلیم کے لیے پریشان ہوں۔ اس کے بغیر ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ میں جلد از جلد اپنے بچوں کے ساتھ شام واپس جانا چاہتی ہوں تاکہ میرے بچوں کا ایک اچھا مستقبل ہو۔ میں امید کرتی ہوں کہ میرے بچے بڑھ لکھ کر ڈاکٹر اور ٹیچر بنیں۔‘
،تصویر کا کیپشن’مجھے میرا گھر یاد آتا ہے۔ ماں ہونے کے ناطے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات سب سے تکلیف دہ چیز ہیں۔ میں خدا کی اس تحفظ کے لیے شکر گزار ہوں لیکن یہاں ہر دن ایک جد وجہد ہے۔ میں شام میں اپنی معمول کی زندگی کو یاد کرتی ہوں۔‘ 32 سالہ بسما کی پانچ برس کی بیٹی ھنا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’میں اپنے بچوں کے تعلیم کے لیے پریشان ہوں۔ اس کے بغیر ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ میں جلد از جلد اپنے بچوں کے ساتھ شام واپس جانا چاہتی ہوں تاکہ میرے بچوں کا ایک اچھا مستقبل ہو۔ میں امید کرتی ہوں کہ میرے بچے بڑھ لکھ کر ڈاکٹر اور ٹیچر بنیں۔‘
ڈولےکہتے ہیں کہ ’مہاجرین کی طرف دیکھنا اور یہ کہنا آسان ہے کہ یہ مختلف ہیں اور آپ کو ان کہانی سمجھ نہیں آتی۔ لیکن جب آپ اسے اس نظر سے دیکھتے ہیں ایک خاندان ہے جو اپنے بچوں کو سکول بھیجنا چاہتا ہے، ان کے لیے بیت الخلا چاہتا ہے، اسے اس بات کی فکر ہے کہ انہیں خوراک کیسے دی جائے اور انہیں کیسے گرم رکھا جائے، اس وقت آپ کو اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ دنیا کے کسی بھی دوسری خاندان جیسا ایک خاندان ہے۔ لیکن وہ یہ سب انتہائی مشکل حالات میں کر رہے ہیں۔‘ اس تصویر میں30 سالہ ملک اپنے تین سالہ بیٹے بدر کے ساتھ ہیں۔
،تصویر کا کیپشنڈولےکہتے ہیں کہ ’مہاجرین کی طرف دیکھنا اور یہ کہنا آسان ہے کہ یہ مختلف ہیں اور آپ کو ان کہانی سمجھ نہیں آتی۔ لیکن جب آپ اسے اس نظر سے دیکھتے ہیں ایک خاندان ہے جو اپنے بچوں کو سکول بھیجنا چاہتا ہے، ان کے لیے بیت الخلا چاہتا ہے، اسے اس بات کی فکر ہے کہ انہیں خوراک کیسے دی جائے اور انہیں کیسے گرم رکھا جائے، اس وقت آپ کو اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ دنیا کے کسی بھی دوسری خاندان جیسا ایک خاندان ہے۔ لیکن وہ یہ سب انتہائی مشکل حالات میں کر رہے ہیں۔‘ اس تصویر میں30 سالہ ملک اپنے تین سالہ بیٹے بدر کے ساتھ ہیں۔