زلزلے کی خبر روبوٹ صحافی کی زبانی

،تصویر کا ذریعہGetty
پیر کو امریکی ریاست کیلیفورنیا میں آنے والے زلزلے کی خبر سب سے پہلے لاس اینجیلیس کے اخبار ’ایل اے ٹائمز‘ نے دی، لیکن یہ خبر دینے والا اخبار کا عملہ نہیں بلکہ ایک روبوٹ تھا۔
کین شوِنکل نامی ایک صحافی اور کمپیوٹر پروگرامر نے کمپیوٹر کی زبان میں ایک فارمولا (ایلگو رتھم) ترتیب دیا ہے جو زلزلہ آنے پر خود بخود ایک چھوٹی سے خبر یا بریکنگ نیوز لکھ دیتا ہے۔
ایک میگزین کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے مسٹر شوِنکل کا کہنا تھا کہ ان کا بنایا ہوا یہ روبوٹ زلزلہ آنے کے تین منٹ کے اندر اندر اخبار کی ویب سائیٹ پر خبر شائع کر دیتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اب ایل اے ٹائمز تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں ’روبوٹ صحافت‘ کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، لیکن ایل اے ٹائمز دنیا کا پہلا اخبار ہے جس نے اس ٹیکنالوجی کو اپنایا تھا۔ یہ روبوٹ زلزلوں کی پیشگوئی اور ان کی پیمائش کرنے والے امریکی ادارے ’یو ایس جیولوجیکل سروے‘ کے ساتھ منسلک ہے اور زلزلہ آنے کی صورت میں روبوٹ اس ادارے سے براہ راست آنے والے اعدا وشمار کو پڑھ کر اسے ایک خبر کی شکل دے دیتا ہے۔
روبوٹ کی ’مہارت‘ صرف زلزلوں کی خبروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ شہر میں ہونے والے جرائم کی بھی مسلسل خبریں بناتا رہتا ہے جس کے لیے روبوٹ ایک دوسری قسم کا ایلگورتھم استعمال کرتا ہے۔ تاہم زلزلے کی خبر کے برعکس روبوٹ جرائم کی خبریں خود ہی شائع نہیں کرتا بلکہ وہ یہ خبریں بنا کر اخباری عملے کی صوابدید پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ کس خبر کو شائع کرنا چاہتے ہیں اور کسے نہیں۔
ایل اے ٹائمز کے علاوہ کئی دیگر ذرائع ابلاغ بھی کمپیوٹر کی ذریعے خبریں لکھنے کا تجربہ کر چکے ہیں، خاص طور پر کھیلوں کی خبروں کے لیے۔
مسٹر شوِنکل کے مطابق یہ کہنا غلط ہوگا کہ روبوٹ نے ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں عملے کی جگے لے لی ہے، تاہم روبوٹ اتنا ضرور کر رہا ہے کہ یہ الیکٹرانک ذرائع سے پہنچنے والے اعداد و شمار کو بہت تیزی سے ترتیب دے دیتا ہے جس سے بریکنگ نیوز بہت جلد قارئین تک پہنچ جاتی ہے۔ ’میرا خیال ہے یہ روبوٹ صحافیوں کے لیے ایک اضافی مددگار کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
’اس کے استعمال سے انسانوں کا بہت سا قیمتی وقت بچ جاتا ہے۔ یہ روبوٹ کھیل، جرائم اور کچھ دوسری خبروں کے لیے درکار بنیادی معلومات اور اعداد و شمار کو عموماً اتنے ہی اچھ انداز میں جمع کر لیتا ہے جیسا ایک انسان کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ میرے خیال میں اس روبوٹ سے کسی انسان کی نوکری کو کوئی خطرہ نہیں، بلکہ یہ ایک صحافی کے کام کو زیادہ دلچسپ بنا دیتا ہے۔‘







