گوگل کا روبوٹ پینٹاگون کے مقابلے کا فاتح

سکیفٹ نے دو روزہ مقابلے کے آٹھ مدارج اور مراحل میں 27 پوائنٹس کے ساتھ کامیابی حاصل کی
،تصویر کا کیپشنسکیفٹ نے دو روزہ مقابلے کے آٹھ مدارج اور مراحل میں 27 پوائنٹس کے ساتھ کامیابی حاصل کی

امریکی وزارت دفاع پنٹاگن کے تحقیقی شعبے ڈرپا کے ذریعے کرائے گئے ایک دو روزہ مقابلے میں گوگل کا روبوٹ سکیفٹ فاتح رہا۔

واضح رہے کہ اس روبوٹ کو جاپان کے ایک چھوٹے اور نئے کارخانے نے تیار کیا تھا اور گذشتہ دنوں گوگل نے اسے ان سے خرید لیا تھا۔

اس مقابلے کا مقصد جوہری تنصیبات میں حادثات کی صورت میں تابکار مادے کا رساؤ روکنے سمیت مرمت کے دیگر کاموں کے لیے روبوٹس کے استعمال کے تجربات تھا۔

ٹیم سکیفٹ کی مشین نے تحفظ کے آٹھوں کاموں کو خوش اسلوبی سے انجام دیا جنہیں مختلف خیالات کے تحت تیار کیا گیا تھا۔ اس نے اپنے مخالفین کو سات پوائنٹس کے واضح فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔

دوسرے نمبر پر آئی ایچ ایم سی روبوٹکس کی ٹیم رہی جسے 20 پوائنٹس ملے۔

یہ مقابلہ فلوریڈا کے شہر میامی کے قریب منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں روبوٹ کی 16 ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔ ان میں سے تین ٹیمیں کوئی بھی پوائنٹ حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

سکیفٹ کے ساتھ اس مقابلے میں سرفہرست رہنے والی سات ٹیمیں ڈرپا فنڈ کے لیے اب درخواست دے سکتی ہیں تاکہ سنہ 2014 کے فائنل مقابلوں میں حصہ لے سکیں۔

ڈرپا نے کہا کہ اس مقابلے کو منعقد کرنا بہت ہی حوصلہ افزا رہا کیونکہ اس سے قبل سنہ 2011 میں جاپان کے فوکوشیما جوہری ری ایکٹر کے بگڑ جانے کے بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ حفاظتی اقدام لینے میں روبوٹ کا محدود کردار ہے۔

جاپان میں بھی 2011 میں جوہری بجلی گھر کے حادثے کے بعد وہاں روبوٹس بھیجے گئے تھے لیکن انہوں نے صرف ویڈیو اور دیگر ڈیٹا ٹرانسفر کیا کیونکہ وہ مرمت کا کام نہیں کر سکتے تھے۔

ڈرپا روبوٹک چیلنج کے پروگرام منیجر گل پریٹ نے کہا: ’ہم نے یہ محسوس کیا کہ۔۔۔ یہ روبوٹ سوائے مشاہدے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ ہمیں ایک ایسا روبوٹ چاہیے تھا جو اس عمارت میں جائے اور والوز کو بند کر دے۔

زیادہ موزوں اور مناسب روبوٹ کے فروغ کے لیے ایجنسی نے اس مقابلے کا انعقاد کیا تھا اور اس میں مختلف قسم کے کام رکھے تھے اور ہر کام کے لیے 30 منٹ کا وقت دیا گیا تھا۔

اس کے آٹھ مدارج یا کام اس طرح تھے:

  • ایک طے شدہ راستے پر کسی مخصوص گاڑی کا چلانا
  • آٹھ فیٹ اونچی سیڑی پر چڑھنا
  • کسی دروازے کو روکنے والے ملبے کو ہٹانا
  • لیور ہینڈل والے دروازے کو کھولنا
  • ایک ایسے راستے کو پار کرنا جس پر روکاوٹیں لگی ہوں
  • بغیر تار کی ایک ڈرل مشین سے کسی دیوار میں مثلث نما شکل کاٹنا
  • تین طرح کے سوراخ کو بند کرنا جسے مختلف قسم کے پہیوں یا لیور سے کنٹرول کیا جاتا ہے
  • کسی ہوز پائپ کو کھولنا اور پھر اسے دیوار میں لگے اس کے نوزل یا ٹونٹی سے جوڑنا
اس روبوٹ کو جاپان کے ایک چھوٹے اور نئے کارخانے نے تیار کیا تھا اور گذشتہ دنوں گوگل نے اسے ان سے خرید لیا تھا
،تصویر کا کیپشناس روبوٹ کو جاپان کے ایک چھوٹے اور نئے کارخانے نے تیار کیا تھا اور گذشتہ دنوں گوگل نے اسے ان سے خرید لیا تھا

اس مقابلے کے لیے تقریباً 100 ٹیم نے درخواستیں دی تھیں لیکن جمعہ اور سنیچر کے مقابلے کے لیے ڈرپا نے 17 ٹیموں کو منتخب کیا۔

بعض ٹیموں نے اپنے تیار کردہ روبوٹ مقابلے میں اتار جبکہ بعض نے دیگر کمپنیوں کے روبوٹ چلانے کے لیے اپنے سافٹ ویئر کا استعمال کیا۔

سکیفٹ اس مقابلے کے سب سے اہم اور پسندیدہ روبوٹ کے طور پر اترا تھا اور یہ لوگوں کی امید پر کھرا اترا۔