عراق: مشتبہ خود کش حملے میں 32 افراد ہلاک

ہلہ شیعہ اکثریت والا شہر ہے جو دارالحکومت بغداد کے جنوب میں 60 کلومیٹر دور واقع ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہلہ شیعہ اکثریت والا شہر ہے جو دارالحکومت بغداد کے جنوب میں 60 کلومیٹر دور واقع ہے

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ الحلہ شہر کی ایک چوکی پر مشتبہ خودکش بم حملے میں کم سے کم 32 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور 150 زخمی ہوئے ہیں۔

حملہ آور ایک منی بس میں سوار تھا جس میں دھماکہ خیز مواد بھرا تھا۔

دھماکے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

چوکی سے گذرنے کے لیے وہاں کھڑی گاڑیاں بھی دھماکے کی زد میں آئیں جس کی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ منی بس میں مائع ایندھن بھرا تھا جو شاید گیسولین تھا۔

الحلہ صوبائی کونسل کے نائب صدر عقيل امام ربی نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ اس حملے کے پیچھے شدت پسند تنظیم القاعدہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

عراق میں آئندہ ماہ انتخابات ہونے ہیں۔ الحلہ شیعہ اکثریت والا شہر ہے جو دارالحکومت بغداد کے جنوب میں 60 کلومیٹر دور واقع ہے۔

عراق میں حالیہ مہینوں میں تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ پڑوسی ملک شام بھی تشدد کی زد میں ہے۔

عراق میں پہلے بھی فرقہ وارانہ تشدد ہوتا رہا ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس سے پہلے کبھی نہیں مارے گئے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سال 2013 میں عراق میں 8،868 افراد ہلاک ہو گئے تھے. وہیں اس سال جنوری اور فروری میں 1400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے سعودی عرب اور قطر پر الزام لگایا ہے کہ وہ عراق کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے شدت پسند گروپوں کو مالی مدد مہیا کرا رہے ہیں۔