فیل ہونے میں کیا برائی ہے

’ناکامی کا خوف عموماً لڑکیوں میں زیادہ ہوتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن’ناکامی کا خوف عموماً لڑکیوں میں زیادہ ہوتا ہے‘

ہماری دنیا مقابلے کی دنیا ہے جہاں ہم کامیابی کی مداحی میں بہت کچھ کہتے ہیں، لیکن ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ شاید ناکامی میں بھی کوئی اچھائی ہو سکتی ہے۔

جب آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے مشہور ادیب فلن او برائن نے سنہ 1940 میں اپنی دوسری کتاب ’تھرڈ پولیس مین‘ کا مسودہ لندن کے ایک ناشر کو دکھایا تھا تو سچ تو یہ ہے کہ ناشر نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

لیکن اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کی بجائے فلن نے اپنے دوستوں کے سامنے یہ بہانہ بنا لیا کہ مسودہ ان کی کار میں پڑا ہوا تھا اور ایک دن کہیں جاتے ہوئے وہ مسودہ تیز ہواؤں کی وجہ سے کار سے اڑ گیا تھا۔

بُکر پرائز جیتنے والی ادیبہ این اینرائٹ کا کہنا ہے کہ فلن کا یہ تباہ کن جھوٹ انھیں خاصا مہنگا پڑا کیونکہ وہ دوستوں کو یہ کہنا بھول گئے کہ انھیں وہ مسودہ دوبارہ مِل گیا ہے اور مذکورہ مسودہ ان کی موت تک ان کے بستر کے قریب میز پر سب کے سامنے پڑا ہوا تھا۔

فلن او برائن کی اہلیہ نے ان کے مرنے کے بعد جب وہی مسودہ ایک ناشر کو دکھایا تو انھوں نے اسے بلا تامل شائع کیا اور اب اس کتاب کا شمار فلن کی بہترین کتابوں میں ہوتا ہے۔

ناکامی کا اعتراف کرنے کی بجائے فلن نے اپنے دوستوں سے جھوٹ بولا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنناکامی کا اعتراف کرنے کی بجائے فلن نے اپنے دوستوں سے جھوٹ بولا

اینبرائٹ نے فلن او برائن کی کہانی کو اپنی نمائش کے لیے منتخب کیا ہے۔ ’ناکام ہونا اچھا ہے‘ کے عنوان سے یہ نمائش ڈبلن کے ٹرنٹی کالج میں ہو رہی ہے۔ اس نمائش کا مقصد زندگی میں ’ناکامی‘ کے بارے میں بحث کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ اپنی ناکامی کو تسلیم کرنا زندگی کے ہر شعبے میں اصل میں آپ کو بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کر سکتا ہے اور آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخش سکتا ہے۔

لندن کے مشہور وِمبلڈن ہائی سکول کی ہیڈ مسٹریس ہیدر ہانبری کہتی ہیں کہ ’ہم سب ناکامی کے خوف کی وجہ سے اپنے دوستوں کے سامنے اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے اور جوں جوں ہم بڑے ہوتے ہیں ہمارے اندر ناکامی کا خوف مزید پختہ ہو جاتا ہے۔

’ ناکامی کا خوف کوئی پیدائشی چیز نہیں ، ہماری جبلت کا حصہ نہیں ہے۔ یہ خوف ہم خود پیدا کرتے ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ یہ بڑھتا جاتا ہے۔

’بہت چھوٹے بچوں میں ناکامی کا بالکل کوئی خوف نہیں ہوتا، اس لیے وہ نئی نئی چیزیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بہت تیزی سے سیکھتے ہیں۔‘

اینڈی مرّے سنہ 2012 کا ومبلڈن فائنل ہارے پر خوب روئے لیکن اگلے ہی سال وہ جیت گئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناینڈی مرّے سنہ 2012 کا ومبلڈن فائنل ہارے پر خوب روئے لیکن اگلے ہی سال وہ جیت گئے

ہانبری کا مزید کہنا ہے کہ ناکامی کا خوف خاصا منفی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ہم زندگی میں کوئی نیا کام نہیں کر سکتے، کوئی خطرہ مول نہیں لے پاتے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم زندگی میں نئے مواقع سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

ڈبلن میں جاری نمائش کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ’ناکام ہونے کا صحیح طریقہ‘ کیا ہے، یعنی زندگی میں خطرے کا سامنا کیسے کرتے ہیں اور پھر اپنی ناکامی سے سبق کیسے سیکھتے ہیں۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں اپنا ہر کام بالکل ’درست طریقے‘ سے کرتا ہوں، دراصل زندگی میں کوئی بڑی کامیابی نہیں حاصل کر سکتے۔

ہیڈ مسٹریس ہانبری کے مطابق ناکامی کا خوف عموما لڑکیوں میں زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ شروع ہی سے والدین لڑکیوں کے ذہنوں کو ایسے ’پروگرام‘ کر دیتے ہیں کہ انھیں بڑوں کو خوش کرنا ہے۔

وینیسا سوچی اولمپیک میں اپنے مقابلوں میں آخری نمبر پر آئیں لیکن وہ بہت خوش تھیں کہ انھوں نے مقابلے میں حصہ تو لیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوینیسا سوچی اولمپیک میں اپنے مقابلوں میں آخری نمبر پر آئیں لیکن وہ بہت خوش تھیں کہ انھوں نے مقابلے میں حصہ تو لیا

’اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ میں چھوٹی بچیوں کے والدین کو کیا نصیحت کرنا چاہوں گی تو میرا کہنا یہی ہوگا کہ والدین کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی بچی کی اس وقت کوئی تعریف نہ کریں جب وہ انھیں خوش کرنے کے لیے کوئی اچھا کام کرے۔ بلکہ بچیوں کی تعریف اس وقت کریں جب وہ تھوڑے نخرے کریں اور کوئی شرارت کریں۔

’اس بات کا خطرہ بچیوں کو صرف اپنے گھر پر نہیں ہوتا بلکہ انھیں چھوٹی ہی عمر میں سکول میں بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے جب لڑکیاں بڑی ہو جاتی ہیں تو انھیں وہ سمجھتی ہیں کہ اگر اپنے بڑوں کو خوش رکھنا ہے تو کوئی غلطی نہیں کرنی۔ ہم جانتے ہیں کہ جب آپ ہر کام درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ ہر قسم کی ’ناکامی‘ سے بھاگ رہے ہوتے ہیں اور ناکامی کے بغیر آپ زندگی میں سیکھتے کم ہی ہیں۔‘