بیلجیئم: مہلک بیماریوں میں مبتلا بچوں کو مرنے کا حق

بیلجیئم کی پارلیمان میں اکثریت نے یوتھینیزیا کے حق میں ووٹ دیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبیلجیئم کی پارلیمان میں اکثریت نے یوتھینیزیا کے حق میں ووٹ دیا

بیلجیئم کی پارلیمان نے مہلک بیماریوں کے باعث ناقابلِ برداشت تکلیف میں مبتلا بچوں آسان موت دیے جانے کے مسودۂ قانون کی منظوری دے دی ہے۔

اس مسودۂ قانون پر بادشاہ کے دستخط کے بعد بیلجیئم دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا جو کسی بھی عمر کے بچوں کے لیے ’یوتھینیزیا‘ کہلانے والے اس طریقۂ کار پر عمل درآمد کرے گا۔

<link type="page"><caption> ’موت کا حق‘ مانگنے والے مقدمہ ہار گئے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2013/07/130731_right_to_die_case_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

اس کے مطابق کسی بھی عمر کے مہلک مرض میں مبتلا بیمار بچے جو شدید تکلیف سے گزر رہے ہوں اپنے والدین کی رضامندی کے ساتھ موت دیے جانے کی درخواست کر سکتے ہیں۔

اس مسودۂ قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بچے اس قدر مشکل فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔

بیلجیئم میں 12 برسوں سے بالغ افراد کے لیے یوتھینیزیا کا عمل قانونی ہے۔

بیلجیم کے ہمسایہ ملک نیدرلینڈر میں یوتھینیزیا 12 برس سے زیادہ کے بچوں کے لیے قانونی ہے لیکن اس کے لیے ان کے والدین کی رضا مندی بھی ضروری ہے۔

نیدرلینڈز میں یوتھینیزیا کے لیے مریض کی درخواست پر معالج اس وقت غور کرتا ہے جب یہ مکمل سوچ بچار کے ساتھ رضاکارانہ طور کی گئی ہو اور مریض کی تکلیف درحقیقت ناقابلِ برداشت ہو جائے اور اس میں بہتری کی کوئی امید نہ ہو۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جب پارلیمان میں یہ بل منظور کیا گیا تو عوامی گیلری سے ایک شخص نے فرانسیسی زبان میں چلا کر کہا ’قاتل۔‘

برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس قانون کے حمایتیوں کا موقف ہے کہ اس سے بہت کم بچے متاثر ہوں گے جن میں زیادہ تر نوجوان ہوں گے۔

اس قانون کے مطابق کسی شدید نوعیت کی بیماری میں مبتلا بچہ، جس کی جسمانی تکلیف ناقابلِ برداشت ہو جائے، اگر متعدد بار مرنے کی درخواست کرے تو اس کے لیے یوتھینیزیا پر عمل درآمد پر غور کیا جائے گا۔

اس فیصلے کے لیے بچے کے والدین، ڈاکٹر اور نفسیاتی ماہرین کا بھی متفق ہونا ضروری ہوگا۔

بیلجیئم کے چرچ کے رہنماؤں نے اس قانون کو غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے ایک دعائیہ تقریب میں کیتھولک چرچ کے سربراہ آرچ بشپ اینڈر جوزف لیونارڈ نے کہا: ’قانون کہتا ہے کہ نوجوان بچے معاشی یا جذباتی مسائل میں اہم فیصلے کرنے کے اہل نہیں ہوتے، لیکن اچانک وہ اس قابل ہوجاتے ہیں کہ وہ کسی سے کہیں کہ کوئی انہیں موت دے دے۔‘

بعض ماہرین امراض اطفال نے خبردار کیا ہے کہ اس قانون سے کمزور بچوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا واقعی ایک بچے سے اس انتہائی مشکل انتخاب کی توقع کی جا رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے 160 ماہرینِ امراض اطفال نے اس قانون کے خلاف کھلے خط پر دستخط کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی کوئی فوری ضرورت نہیں ہے کیونکہ جدید ادویات سے درد میں کمی ممکن ہے۔

لیکن رائے عامہ کے جائزے میں اس قانون کے لیے بڑے پیمانے پر حمایت دیکھنے میں آئی جن میں سے اکثریت کیتھولک افراد کی تھی۔