درد ہلکا کرنے والا بٹن دریافت کر لیا گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

    • مصنف, ہیلن برگز
    • عہدہ, بی بی نیوز

برطانوی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ انسان کے جسم میں ایک جینیاتی بٹن موجود ہوتا ہے جو درد کے احساس کو کنٹرول کرتا ہے اور اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اس جینیاتی بٹن کو ’ڈمر سوئچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

لندن کے کنگز کالج کے محققین کے مطابق جن جڑواں بچوں کے جین آپس میں سو فیصد ملتے ہیں ان میں بھی درد برداشت کرنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔

تحقیق کے نتیجے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ درد برداشت کرنے کی صلاحیت کو طررِ زندگی بدلنے سے یا ادویات سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

سائنس کے جریدے نیچر کیمونیکشن میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق اس تحقیق سے نئی درد کش گولیاں ایجاد ہوں گی یا طرز زندگی کے نئے انداز سامنے آئیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق پانچ میں ایک شخص تیز یا شدید درد کا شکار ہوتا ہے۔

محقق ڈاکٹر اردن بیل کا کہنا ہے کہ درد کے ذمہ دار جین کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کے بارے میں جاننا دلچسپ ہے اور اس سے مستقل درد کے شکار مریضوں کا زیادہ بہتر علاج ممکن ہو سکے گا۔

اس تحقیق میں جڑواں بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔ درد کی شدت کی پیمائش کے لیے سائنسدانوں نے 25 جڑواں بچوں کے بازو پر گرم چیز رکھ کر ان کے درد سہنے کی حد جاننے کی کوشش کی۔

جڑواں بچوں کے جین سو فیصد مماثل ہوتے ہیں۔ اگر ان کے درد سہنے کی صلاحیت میں فرق ہو اس کا مطلب ہے یہ فرق جینیاتی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ ماحول یا ان کے جینز متاثر کرنے والے عوامل ہو سکتے ہیں۔

تحقیق میں شامل شرکا سے کہا گیا کہ جب گرمی ان کے لیے ناقابل برداشت ہو جائے تو وہ اپنے بازو پر بندھی پٹی کا بٹن دبا دیں۔ اس سے محققین کو شرکا کے درد سہنے کی حد کا اندازہ لگانے میں مدد ملی۔

ڈی این اے کی مدد سے محققین نے جڑواں بچوں کے مکمل جینیاتی کوڈ یا جینوم کی جانچ کی اور پھر اس کا موازنہ ان 50 لوگوں سے کیا جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔

محققین کی ٹیم نے محسوس کیا کہ جڑواں بچیوں میں سے ایک بچی کے اندر درد سہنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے والے نو جین میں دوسری بچی کے مقابلے میں کچھ کیمیائی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔

یہ معلومات درد کی شدت کا تعین کرنے والے جین کی شرائط میں کافی اہم ہے۔ درد کش گولیوں کی ترقی کے پیچھے بھی یہی وجہ رہی۔

لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر ٹم سپكٹر کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک تاریخی مطالعہ ہے۔ یہ مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ لاکھوں جینیٹک سگنلز کو تلاش کرنے کے لیے کس طرح ایک اسی طرح جڑواں بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آپس میں جوڑا جاتا ہے، تو ان میں آنے والی تبدیلی سے ہمارے جین میں موجود ننھے کیمیائی بٹن کا پتہ چلتا ہے اور یہ بٹن ہمیں خاص بناتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کسی شخص کی درد برداشت کی حد کیا ہو سکتی ہے اس کا پتہ کیمیائی تبدیلی سے چلتا ہے۔ یہ کیمیائی تبدیلی تھرموسٹیٹ یا ’ڈمر سوئچ‘ کی طرح کام کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دوا لینے یا طرز زندگی میں تبدیلی کرنے سے ہم ان تھرموسٹیٹ کو اپنے مطابق مقرر کر سکتے ہیں۔ اس سے مستقبل میں ہمیں درد کا تجربہ پہلے سے کم ہوگا۔‘

’جبکہ اس بات کے پورے امکان ہے کہ جنیٹك تبدیلی اس کے برعکس ہو۔‘