’جنسی استحصال میں ملوث پادری برطرف کیے جائیں‘

اقوامِ متحدہ میں پادریوں اور راہبوں کے ہاتھوں بچوں کے استحصال کے معاملے میں ویٹیکن کی سرِ عام مخالفت کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ میں پادریوں اور راہبوں کے ہاتھوں بچوں کے استحصال کے معاملے میں ویٹیکن کی سرِ عام مخالفت کی گئی ہے

اقوامِ متحدہ نے ویٹیکن سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث پادریوں کو فوری طور پر برطرف کر دیا جائے۔

بدھ کو جاری ہونے والی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے حقوقِ اطفال کے ادارے نے ویٹیکن کی ان پالیسیوں پر کڑی تنقید کی جن کی وجہ سے بقول ان کے پادریوں کو ہزاروں بچوں کا جنسی استحصال کرنے کا موقع ملا۔

<link type="page"><caption> جنسی استحصال:قریباً 400 پادری منصب سے محروم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/01/140117_vetican_defrocked_priests_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

اقوام متحدہ کی حقوق اطفال کے نگراں ادارے نے کہا ہے کہ ویٹیکن کو ایسے تمام پادریوں کو فوری طور پر ہٹا دینا چاہیے جنہوں نے بچوں کا جنسی استحصال کیا ہے یا جن پر جنسی استحصال کرنے کا شبہ ہے۔

اقوام متحدہ نے ہم جنس پرستی، مانع حمل اور اسقاط حمل جیسے مسائل پر ویٹیکن کے نظریے پر بھی کڑی تنقید کی۔

ویٹیکن نے چرچ میں بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے کے لیے ایک نگراں کمیشن تشکیل دے رکھا ہے۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ کی حقوق اطفال کمیٹی نے کہا کہ ویٹیکن کے ادارے ’ہولی سی‘ کو ان پادریوں کی فائلیں دوبارہ کھولنی چاہییں جنہوں نے بچوں کے استحصال کے جرائم کو چھپایا ہے تاکہ انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویٹیکن نے جرائم کی سنجیدگی کو قبول نہیں کیا اور اس کی وجہ سے کمیٹی بہت فکر مند ہے۔

گذشتہ ماہ ہی ویٹیکن کے حکام سے عوامی طور پر سوالات کیے گئے تھے کہ وہ مجرموں کے بارے میں معلومات کیوں نہیں فراہم کر رہے ہیں اور مستقبل میں بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے کے لیے وہ کیا کر رہے ہیں۔

دسمبر میں اقوام متحدہ نے ویٹیکن سے بچوں سے جنسی استحصال کے بارے میں معلومات طلب کی تھیں لیکن ویٹیکن نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے قانونی استعمال کے لیے مانگے جانے پر ہی معلومات دی جاتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر ابھی تک ویٹیکن نے کوئی رد عمل نہیں دیا ہے۔

روم میں بی بی سے کے نامہ نگار ڈیوڈ ولی کا کہنا ہے کہ ویٹیکن نے پادریوں کے ہاتھوں بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے نئے ضوابط بنائے ہیں۔

امریکہ میں استحصال کا شکار ہونے والے متاثرین کی نمائندہ تنظیم کی صدر بابرا بلین نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ ان باتوں کی توثیق کرتی ہے جو ہم کہہ رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا: ’چرچ کے حکام اس بارے میں جانتے تھے اور انہوں نے اسے روکنے سے انکار کیا۔ کچھ نہیں بدلا، پوپ فرانسس اور ویٹیکن کے حکام کی جانب سے بیانات کے باوجود انہوں نے وہ اقدامات کرنے سے انکار کر دیا جن سے ان واقعات کو روکا جاسکتا تھا۔‘

اس سے پہلے بھی ویٹیکن نے تصدیق کی تھی کہ پوپ بینیڈکٹ نے ایک سال میں بچوں سے جنسی استحصال کے معاملے پر قریباً 400 پادریوں کو مذہبی منصب سے محروم کیا ہے۔

حال ہی میں اقوامِ متحدہ میں پہلی بار پادریوں اور راہبوں کے ہاتھوں بچوں کے استحصال کے معاملے میں ویٹیکن کی سرِ عام مخالفت کی گئی۔