ایمیزون: جنسی تشدد کے موضوع پر لکھی کتابیں ہٹا لی گئیں

آن لائن خریداری کی ویب سائٹ ایمیزوں نے ایک رپورٹ کے بعد اپنے کنڈل اسٹور سے تشدد کے موضوع پر مبنی کئی کتابیں ہٹا دی ہیں۔
ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کنڈل پر ریپ اور جنسی موضوعات پر نامناسب کتابیں موجود ہیں۔ ان کتابوں کی نشاندہی ’دا کرنل‘ نامی ایک ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ نے کی۔
<link type="page"><caption> ایمازون پر ’ریپ‘ ٹی شرٹ کی فروخت</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/03/130302_amazon_tshirts_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ایمیزون کے سٹور میں روز مرّہ استعمال ہونے والے الفاظ کو اگر سرچ کیا جائے تو ویب سائٹ بغیر صارفین کی عمر کا تعیّن کیے خود کار طریقے سے انہیں غیر مناسب کتابوں تک رسائی فراہم کر سکتی ہے۔
ایمیزون نے اس مسئلے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا سوائے اس بات کی تصدیق کرنے کے کہ دا کرنل نے جن کتابوں کی نشاندہی کی ہے انہیں ایمیزوں نے ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے۔
یہ کتابیں ویب سائٹ کے اُس حصے میں موجود تھیں جہاں مصنف خود اپنا کام شائع کر سکتے ہیں اوراگر ان کی کتابیں فروخت ہو جائیں تو ایمیزون کو معاوضے میں سے کچھ حصہ موصول ہوتا ہے۔
ایک وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ویب سائٹ پر حفاظتی تدابیر کے بغیر اس قسم کی نامناسب کتابیں شائع کرنے سے ایمیزون جیسی کمپنیوں پر فرد جرم عائد ہو سکتی ہے۔
چیئرمین انٹرنیٹ واچ فاوٹزیشن مارک سٹیون کا کہنا ہے کہ ’ایمیزوں کے ڈائریکٹرز کے لیے اس بات کا جواب دینا بہت مشکل ہے کہ وہ فُحش نِگاری سے معاوضہ کیوں کما رہے ہے جبکہ یہ بظاہر ایک جرم ہے؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جولائی میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں کسی کو بھی ایسا فُحش مواد رکھنے یا شائع کرنے کی اجازت نہ ہو جس میں ریپ کا عنصر شامل ہو اور اس سلسلے میں وہ اسے غیر قانونی قرار دینا چاہتے ہیں۔
مگر ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ اقدام کتابوں پر کس طرح اثر انداز ہو گا جو فی الحال ابسین پبلیکیشن ایکٹ یا او پی اے کے کنٹرول میں ہیں۔
ایسوسی ایشن آف چیف پولیس آفیسر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ریپ ایک سنگین جرم ہے جس کا جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی اثر ہوتا ہے اور اس کو لطف اور تفریح کے لیے لکھنا ایک اور ظلم ہے‘۔
چلڈرن چیریٹی کولیشن آن انٹرنیٹ سیکیورٹی کے سیکرڑی جان کار نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر والدین کو یہ معلوم ہو جائے کہ انٹرنیٹ پر کیا کچھ دیکھا جا سکتا ہے تو وہ حیران ہو جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ کم از کم بالغ لوگوں کے لیے موجود مواد کا بھی کوئی معیار ہونا چاہیئے جو ہر عمر کے صارفین کو میّسر نہیں ہونا چاہیے‘۔







