مصری انقلاب کی تیسری سالگرہ، حالات کشیدہ

،تصویر کا ذریعہReuters
مصر میں سنیچر کو ملک کے سابق سربراہ حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف کامیاب انقلاب کی تیسری سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
25 جنوری 2011 کو مصر میں حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز ہوا تھا اور اس عوامی بغاوت نے ان کے کئی دہائیوں پر مشتمل عہد کا خاتمہ کر دیا تھا۔
انقلاب کے آغاز کے تین برس کی تکمیل کے موقع پر فوج کی حمایت یافتہ موجودہ حکومت اور معزول صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین دونوں کے حامیوں نے جلسے منعقد کرنے اور جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
ملک اور خصوصاً دارالحکومت قاہر میں موجود کشیدگی کی وجہ سے انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ جمعے کو قاہرہ میں متعدد دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔
مصر کے وزیر داخلہ محمد ابراہیم نے عوام سے کہا ہے کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں اور سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں۔انھوں نے اخوان المسلمین کے حامیوں کو بھی متنبہ کیا کہ ’جشن میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ اخوان المسلمین گذشتہ جولائی سے سراپا احتجاج ہے جب ان کے سربراہ محمد مرسی کو صدر کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔ اب ان کی جگہ فوج کی حمایت کے ساتھ جنرل عبدالفتح السیسی ملک کے صدر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اینٹی کو الائنس یعنی تختہ پلٹ مخالف اتحاد نے جو اخوان المسلمین کی سربراہی میں کام کر رہا ہے، اپنے ایک بیان میں 18 دنوں کے احتجاج کی اپیل کی ہے اور یہ مظاہرے سنیچر سے شروع ہو رہے ہیں۔
18 دن کی اپیل سنہ 2011 میں ہونے والے احتجاج کی مناسبت سے ہے جس کے نتیجے میں حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخوان المسلمین کو حال ہی میں عبوری حکومت نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور اس پر ملک گیر پیمانے پر پرتشدد حملوں کا الزام ہے جسے اخوان المسلمین مسترد کرتی ہے۔
جمہوری طور پر مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو ان کے خلاف عوام کے مظاہرے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گيا تھا۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے عبوری صدر جنرل السیسی صدر کا انتخاب لڑیں گے اور مصر میں ایک بار پھر فوج کا مضبوط آدمی برسرِاقتدار آ جائے گا جیسا کہ گذشت چھ دہائیوں میں رہا ہے۔







