جنیوا:’شامی مخالفین پہلی بار آمنے سامنے‘

اقواِم متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی فریقین کے درمیان بات چیت میں پیغام بر بنیں گے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناقواِم متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی فریقین کے درمیان بات چیت میں پیغام بر بنیں گے

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جنیوا امن کانفرنس کے پہلے دن شامی حکومت اور حزبِ مخالف کے درمیان براہِ راست بات چیت نہ ہونے کے بعد اب سنیچر کو فریقین کی ’ایک ہی کمرے میں‘ ملاقات شروع ہوگئی ہے۔

جمعے کو شام کے معاملے پر اقواِم متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی نے فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے بعد کہا کہ دونوں فریق اس بات کو سمجھتے ہیں کہ یہ کانفرنس شام کو بچانے کی کوشش ہے۔

اس کانفرنس میں فریقین ایک مکمل امن معاہدے کی بجائے چھوٹی چھوٹی رعایات دینے پر زیادہ غور کر رہے ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ سنیچر کو شامی شہر حمص کے محاصرہ زدہ علاقوں تک امداد کی فراہمی پر بات ہوگی۔ امریکہ، روس اور اقوامِ متحدہ بارہا اس سلسلے میں مطالبات کر چکے ہیں۔

ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس سلسلے میں’عملی پہلوؤں پر بات ہو چکی ہے اور چیزیں تیار ہیں۔ اگر شامی حکومت اس سلسلے میں رکاوٹ نہیں ڈالتی تو یہ کام بہت جلدی ہو سکتا ہے۔‘

خیال رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے حمص میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔

2011 میں شروع ہونے والی شام کی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 95 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جن میں سے 20 لاکھ نے دیگر ممالک جبکہ بقیہ نے ملک کے اندر ہی دیگر مقامات پر پناہ لی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام کے بارے میں امن کانفرنس میں شریک حکومتی اور حزبِ اختلاف کے مندوبین اب بھی براہِ راست ایک دوسرے سے بات کرنے کے روادار نہیں تاہم امید ہے کہ اخضر ابراہیمی فریقین کے درمیان بات چیت میں پیغام بر بنیں گے۔

جمعے کو رات گئے شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کے ترجمان لوئے صافی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’کل سب ایک کمرے میں موجود ہوں گے لیکن سب مخاطب اخضر ابراہیمی کو ہی کریں گے۔‘

شام امن کانفرنس کے سلسلے میں ابتدائی بات چیت بدھ کو جنیوا کے نواحی قصبے مونٹرو میں شروع ہوئی تھی اور اخضر ابراہیمی نے جمعرات اور جمعے کو فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر کے انھیں براہِ راست بات چیت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریقین ’ایک ہی کمرے میں‘ ملاقات کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا ’میں نے فریقین سے جو بات کی ہے وہ حوصلہ افزا ہے اور ہم دونوں کی ملاقات کے منتظر ہیں‘۔

اخضر ابراہیمی نے یہ بھی کہا کہ ’ اس امن کانفرنس کا مقصد شام کو بچانا ہے اور مجھے امید ہے کہ شامی حکومت، حزبِ مخالف اور اقوامِ متحدہ یہ کام کر لیں گے‘۔

جمعے کو امن کانفرنس کے پہلے دن کے اختتام پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شام میں امن قائم کرنے پر زور دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا ’بس بہت ہو گیا، شام کے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا وقت آ گیا ہے۔۔۔ہمارے سامنے راستہ مشکل ہے، لیکن اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اور اسے ہر حالت میں حل کیا جانا چاہیے‘۔

خیال رہے کہ شام امن کانفرنس میں جمعے کو فریقین نے ایک دوسرے پر کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی تک شام کو نہیں بچایا جا سکتا۔ دوسری جانب شامی اہل کار اس بات پر مصر ہیں کہ صدر بشار الاسد اقتدار سے الگ نہیں ہوں گے۔