سوئٹزرلینڈ: امن کانفرنس بشار الاسد کے مستقبل پر منقسم

،تصویر کا ذریعہReuters
شام کے تنازعے پر سوئٹزرلینڈ میں امن کانفرنس کا پہلا روز صدر بشار الاسد کے مستقبل کے حوالے سے تلخ تقسیم کے ساتھ ختم ہو گیا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی تک شام کو نہیں بچایا جا سکتا۔
دوسری جانب تاہم شامی اہل کار اس بات پر مصر ہیں کہ صدر بشار الاسد اقتدار سے الگ نہیں ہوں گے۔
امن کانفرس کا پہلا دن جنیوا کے نزدیک مونٹرو کے مقام پر ہوا۔
امن کانفرس کے پہلے دن کے اختتام پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پرس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے شام میں امن قائم کرنے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا ’بس بہت ہو گیا، شام کے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا وقت آ گیا ہے‘۔
بان کی مون کے مطابق ’اصل کام جمعے کو شروع ہو گا، ہمارے سامنے ایک مشکل راستہ ہے لیکن اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اور اسے ہر حالت میں حل کیا جانا چاہیے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں کسی فوری کامیابی کی امید نہیں ہے۔
اس موقع پر شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر براہیمی نے کہا کہ وہ جمعرات کو شامی حکومت اور حزبِ مخالف کے وفود سے الگ الگ بات کریں گے اور انھیں امید ہے کہ فریقین جمعے کو ایک کمرے میں ملاقات کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مونٹرو میں موجود بی سی سی کے نامہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ مذاکرات جب بند دروازوں تک پہنچ جائیں تو اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ وہاں مزید تعمیری بات ہو گی۔
اس سے قبل شام کے تنازعے پر سوئٹزرلینڈ میں امن کانفرنس شروع ہونے پر شامی اہل کاروں اور حزب مخالف کے درمیان تلخ الزامات کا تبادلہ ہوا۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ صدر بشارالاسد کے اقتدار میں رہتے ہوئے ’کوئی راستہ نکلنا‘ مشکل ہے۔
شام کے تنازعے پر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات اب جمعے کو جنیوا میں ہوں گے۔
شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک تخمینے کے مطابق 20 لاکھ شامی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جب کہ 65 لاکھ سے زائد ملک کے اندر بےگھر ہو گئے ہیں۔







