غلطی ہو گئی، آئندہ نہیں ہو گی: اوباما

امریکہ کو دوست ملکوں کے سربراہوں کی جاسوسی کے معاملے پر خجالت کا سامنا کرنا پڑا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ کو دوست ملکوں کے سربراہوں کی جاسوسی کے معاملے پر خجالت کا سامنا کرنا پڑا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے جاسوسی کو امریکہ اور جرمنی کے تعلقات میں آڑے نہیں آنے دیں گے۔

جرمنی کے زیڈ ڈی ایف ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا عندیہ دیا کہ امریکہ کی جانب سے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے فون ٹیپ کیے جانا غلطی تھی جو آئندہ نہیں دہرائی جائے گی۔

گذشتہ سال یہ انکشاف ہونے کے بعد کہ امریکی ادارے جرمن چانسلر کا فون ٹیپ کرتے رہے ہیں، انگیلا میرکل نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اعتماد شکنی کی ہے جو ناقابلِ قبول ہے۔

جمعے کو صدر اوباما نے جاسوسی کے طریقوں پر قدغنیں لگانے کا حکم جاری کیا تھا۔

ہفتے کو صدر اوباما نے زیڈ ڈی ایف کو بتایا: ’میں جاسوسی کے کسی نظام کی وجہ سے (امریکہ جرمن) تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا جس سے ہمارے درمیان پائے جانے والے اعتماد کو ٹھیس پہنچے۔

’جب تک میں امریکہ کا صدر ہوں، جرمن چانسلر کو اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

تاہم انھوں نے اضافہ کیا کہ دوسرے ملکوں کی طرح امریکی جاسوس ادارے بھی یہ جاننے میں دلچسپی لیتے رہیں گے کہ دوسری حکومتوں کیا سوچ رہی ہیں۔

صدر اوباما نے یہ انٹرویو اس کے ایک دن بعد دیا ہے جب انھوں نے امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کرنے پر قدغنیں لگانے کا حکم دیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شہری آزادیوں کا خیال رکھا جائے۔

گذشتہ برس افشا ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا تھا کہ امریکہ نے دوست ملکوں کے سربراہوں کی جاسوسی کی تھی۔ ان میں جرمن چانسلر کا ذاتی موبائل فون ٹیپ کرنے کا انکشاف بھی شامل تھا۔

جمعے کو چانسلر میرکل کے ایک ترجمان نے کہا کہ جاسوسی کی رپورٹوں کے بارے میں جرمنوں کی تشویش حق بجانب ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دوسرے ملکوں کے شہریوں کے حقوق کا بھی لازمی خیال رکھا جانا چاہیے۔

گارڈیئن اخبار اور چینل نیوز 4 نے خبر دی تھی کہ افشاشدہ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ ہر روز دنیا بھر کے 20 کروڑ ایس ایم ایس پیغامات اکٹھے کرتا ہے۔

یہ دستاویزات امریکی خفیہ ادارے این ایس اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے اخبارات کو فراہم کی تھیں۔ سنوڈن آج کل روس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔