جمہوریہ وسطی افریقہ کے پہلے مسلمان صدر مستعفی

جمہوریہ وسطی افریقہ کے عبوری صدر میشل جتودیا ملک میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے بلائی گئی ایک علاقائی کانفرنس کے دوران ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان کے وزیراعظم نے بھی ہمسایہ ملک چاڈ میں جاری اس کانفرنس پر ہی اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔
میشل جتودیا جمہوریہ وسطی افریقہ کے پہلے مسلمان سربراہ تھے اور انہوں نے گذشتہ سال ایک بغاوت کے بعد ملک کی کمان سنبھالی تھی۔ ان کے استعفے کا اعلان سنتے ہی ملک کے دارالحکومت بانگی میں لوگ سڑکوں پر جشن مناتے دیکھے گئے۔
صدر میشل جتودیا کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ملک کی 20 فیصد آبادی عسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان پر تشدد کشیدگی سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر جا چکی ہے۔
اقوام متحدہ نے ملک میں شدید تباہی کی تنبیہ کی ہے۔
دسمبر میں علاقائی امن فوجوں اور فرانسیسی افواج کی آمد کے بعد سے مذہبی فسادات میں 1000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کئی گاؤں خالی کر دیے گئے ہیں اور گذشتہ ماہ کے دوران ہی نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ دارالحکومت بانگی کی آدھی آبادی بھی نقل مکانی کر چکی ہے۔

متاثرہ افراد کے لیے بنائے گئے ایک کیمپ میں رہنے والے کارین بگبے نے خبر رساں ادارے اےپی کو بتایا ’آخرکار ہم آزاد ہیں۔ اب ہم اپنے گھر جا سکیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی پال وڈ نے بانگی سے بتایا کہ جشن منانے والے زیادہ تر عیسائی ہیں جبکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد گھروں میں ہی رہی۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر جتودیا کےمخالفوں کا مرکزی مطالبہ ان کا استعفیٰ تھا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ تاہم جمعے کے روز حریف مسلح گرہوں کے درمیان فائرنگ کے واقعات ہوتے رہے اور یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ فسادات ختم ہوگئے ہیں۔
اعلان کے فوراً بعد فرانسیسی ٹینکوں نے صدارتی محل کو گھیرے میں لے لیا۔
فرانسیسی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ صدر جتودیاکے متبادل کا اعلان جلد از جلد ہونا چاہیے۔
افریقی یونین کے ملک میں 4000 امن فوجی ہیں جبکہ فرانس نھی 1600 فوج بھیج رکھے ہیں۔







