عراق: امریکہ کا اسلحے کی ترسیل تیز کرنے کا اعلان

امریکہ نے کہا ہے کہ عراق کے مغربی صوبے الانبار میں شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی میں مدد فراہم کرنے کے لیے عراقی حکومت کو فوجی سازوسامان کی ترسیل تیز کر دی گئی ہے۔
ادھر فلوجہ پر قابض القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں نے سنّی العقیدہ قبائل سے ملک کی شیعہ قیادت والی حکومت کے خلاف ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند ہفتے میں نگرانی کرنے والے ڈرون طیاروں کی ایک اضافی کھیپ بھی عراق بھیجے گا جبکہ آنے والے مہینوں میں مزید ہیل فائر میزائل بھی بھیجے جائیں گے۔
عراق کے سنّی اکثریتی صوبے الانبار کے شہروں فلوجہ اور رمادی میں ہونے والی جھڑپیں ماضی قریب میں عراق میں ہونے والی سب سے شدید لڑائی ہے۔
فلوجہ کا کنٹرول کئی دن قبل عراقی حکومت کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا اور اب عراقی فوج وہاں کارروائی کرنے کی تیاری میں ہے۔
عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے فلوجہ کی مقامی آبادی پر زور دیا ہے کہ وہ شہر پر قبضہ کرنے والے القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کو باہر نکال دیں۔
عراق میں تشدد میں اضافے کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے پیر کو کہا ہے کہ امریکہ القاعدہ سے منسلک گروہوں کو ’تنہا‘ کرنے کے لیے عراق کے ساتھ مل کر حکمتِ عملی ترتیب دے رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم خریدے گئے فوجی سامان کی فراہمی کے عمل میں تیزی لا رہے ہیں اور موسمِ بہار سے قبل ہیل فائر میزائلوں کی ایک اضافی کھیپ بھی فراہم کی جائےگی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ عراق کو آنے والے چند ہفتوں میں دس اور بعد ازاں مزید 48 نگرانی کرنے والے ڈرون طیارے بھی دے گا۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ عراق کی مدد کرتا رہے گا لیکن وہ وہاں فوج واپس بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
اس سے قبل اتوار کو عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے فلوجہ کے عوام اور قبائل سے کہا تھا کہ اگر وہ ’دہشت گردوں‘ کو باہر نکال دیں گے تو شہر میں عسکری کارروائی نہیں کی جائے گی۔
عراقی ٹی وی کے مطابق وزیرِاعظم نوری المالکی نے فلوجہ کے عوام اور قبائل کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو نکال باہر کریں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ امر یقینی ہوگا کہ ’ان کے علاقے مسلح تصادم کا نشانہ نہیں بنیں گے۔‘
فلوجہ پر عراقی فوج کی گولہ باری کی وجہ سے وہاں سے نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے اور شدت پسندوں نے اپنا گھربار چھوڑ کر جانے والے افراد سے کہا ہے وہ واپس آ جائیں۔
شدت پسندوں نے مقامی سنّی قبائل سے ملک کی شیعہ قیادت والی حکومت کے خلاف جنگ میں مدد کی اپیل کی ہے۔

تاہم اس علاقے میں موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فلوجہ اور الانبار کے دارالحکومت رمادی کی اکثر آبادی چاہتی ہے کہ عراقی فوج شہروں میں داخل نہ ہو۔ نامہ نگار کے مطابق شدت پسند مقامی سنّی آبادی اور شیعہ اکثریتی حکومت کے بیچ نفاق کے بیج بونے میں کامیاب رہے ہیں۔
فلوجہ کے بیشتر حصوں پر اب القاعدہ سے منسلک گروپ ’اسلامک سٹیٹ ان عراق اینڈ دا لیونٹ‘ یا آئی ایس آئی ایس کا قبضہ ہے۔
فلوجہ کے علاوہ الانبار کے دارالحکومت رمادی میں بھی شدت پسندوں اور حکومتی افواج کے مابین جھڑپیں جاری ہیں اور شہر کے کچھ حصوں پر شدت پسندوں کا قبضہ ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فلوجہ علامتی اعتبار سے عراقیوں خصوصاً سنّی عرب آبادی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے عراق میں امریکی فوج کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور یہیں پر 2004 میں امریکی و عراقی افواج اور شدت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی بھی ہوئی تھی۔







