اردن: ابوقتادہ کی جج اور وکیل سے بدتمیزی

برطانیہ سے ملک بدر کیے جانے والے سخت گیر اور قدامت پسند مبلغ ابوقتادہ نے اردن میں اپنے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت چلنے والے مقدمے میں بےباک اور جارحانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔
عمان میں جاری مقدمے کے دوران فلسطینی نژاد اردنی مبلغ نے کمرۂ عدالت میں ججوں اور فوجی وکیلِ استغاثہ کے سامنے آواز بلند کی۔
ابوقتادہ کو اردن میں ان کی غیرموجودگی میں 1998 کے بم دھماکوں اور 2000 میں دہشت گردی کی ایک ناکام کارروائی میں ملوث ہونے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی لیکن اب ان پر دوبارہ مقدمہ چل رہا ہے۔
انھیں آٹھ برس کی قانونی جنگ کے بعد رواں برس جولائی میں برطانیہ سے واپس اردن بھیجا گیا تھا۔
منگل کو سماعت کے دوران ابوقتادہ نے ان پر عائد تمام الزامات کی دوبارہ تردید کی۔ انھوں نے جج احمد قطرانیہ کو مخاطب کر کے کہا کہ ’میں مجرم نہیں ہوں اور تم ایک بےایمان جج ہو۔‘
جب وکیل ِاستغاثہ نے ابوقتادہ کو کمرۂ عدالت سے باہر نکال دینے کا مطالبہ کیا تو ابوقتادہ نے اس کی جانب رخ کیا اور کہا ’چپ کرو اور نیچے بیٹھ جاؤ۔‘
دس دسمبر کو مقدمے کی ابتدائی سماعت کے موقع پر ابوقتادہ نے کہا تھا کہ اردن نے برطانیہ سے کیے گئے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس کے تحت ان کے خلاف مقدمے کی منصفانہ سماعت ہونا تھی۔
انھوں نے الزام لگایا تھا کہ عدالت کے تین ججوں میں سے ایک فوج کا نامزد کردہ ہے۔ منگل کو سماعت کے موقع پر اس جج کو تبدیل کر دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ابوقتادہ برطانیہ سے ملک بدری کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہا تھا تو اس وقت اردنی حکام نے برطانیہ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کے مقدمے کی سماعت سویلین جج ہی کریں گے۔
منگل کو اس معاملے کی سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔
ابوقتادہ کی عمر پچاس کے پیٹے میں ہے اور اگر انھیں مجرم قرار دیا گیا تو انھیں 15 برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔







