اردن: ابوقتادہ کی جج اور وکیل سے بدتمیزی

ابوقتادہ کو جولائی 2013 میں برطانیہ سے واپس اردن بھیجا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنابوقتادہ کو جولائی 2013 میں برطانیہ سے واپس اردن بھیجا گیا تھا

برطانیہ سے ملک بدر کیے جانے والے سخت گیر اور قدامت پسند مبلغ ابوقتادہ نے اردن میں اپنے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت چلنے والے مقدمے میں بےباک اور جارحانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔

عمان میں جاری مقدمے کے دوران فلسطینی نژاد اردنی مبلغ نے کمرۂ عدالت میں ججوں اور فوجی وکیلِ استغاثہ کے سامنے آواز بلند کی۔

ابوقتادہ کو اردن میں ان کی غیرموجودگی میں 1998 کے بم دھماکوں اور 2000 میں دہشت گردی کی ایک ناکام کارروائی میں ملوث ہونے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی لیکن اب ان پر دوبارہ مقدمہ چل رہا ہے۔

انھیں آٹھ برس کی قانونی جنگ کے بعد رواں برس جولائی میں برطانیہ سے واپس اردن بھیجا گیا تھا۔

منگل کو سماعت کے دوران ابوقتادہ نے ان پر عائد تمام الزامات کی دوبارہ تردید کی۔ انھوں نے جج احمد قطرانیہ کو مخاطب کر کے کہا کہ ’میں مجرم نہیں ہوں اور تم ایک بےایمان جج ہو۔‘

جب وکیل ِاستغاثہ نے ابوقتادہ کو کمرۂ عدالت سے باہر نکال دینے کا مطالبہ کیا تو ابوقتادہ نے اس کی جانب رخ کیا اور کہا ’چپ کرو اور نیچے بیٹھ جاؤ۔‘

دس دسمبر کو مقدمے کی ابتدائی سماعت کے موقع پر ابوقتادہ نے کہا تھا کہ اردن نے برطانیہ سے کیے گئے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس کے تحت ان کے خلاف مقدمے کی منصفانہ سماعت ہونا تھی۔

انھوں نے الزام لگایا تھا کہ عدالت کے تین ججوں میں سے ایک فوج کا نامزد کردہ ہے۔ منگل کو سماعت کے موقع پر اس جج کو تبدیل کر دیا گیا۔

جب ابوقتادہ برطانیہ سے ملک بدری کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہا تھا تو اس وقت اردنی حکام نے برطانیہ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کے مقدمے کی سماعت سویلین جج ہی کریں گے۔

منگل کو اس معاملے کی سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

ابوقتادہ کی عمر پچاس کے پیٹے میں ہے اور اگر انھیں مجرم قرار دیا گیا تو انھیں 15 برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔