ابوقتادہ کی برطانیہ بدری کی تیاری

ابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کی
،تصویر کا کیپشنابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کی

برطانیہ میں مقیم اردنی نژاد مسلم مبلغ ابوقتادہ کو واپس اپنے آبائی ملک اردن روانہ کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ گزشتہ دس برسوں سے مسلم مبلغ کو ملک سے نکالنے کی کوشش میں تھی لیکن اس میں کامیاب نہیں پا رہی تھی۔

برطانیہ کی حکومت نےابوقتادہ کو ملک سے نکالنے میں ناکامی کے بعد اردن کی حکومت کے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت تشدد کے ذریعے حاصل کی جانے والی شہادت کو ان کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ لی لیکن بعد میں برطانیہ میں یہودیوں کو اور اسلام کو چھوڑنے والے افراد کو ہلاک کرنے کی حمایت کرنے کی وجہ بدنام ہوئے۔

سنیچر کی شب ابوقتادہ کو بیلمارش کی جیل سے نارتھ ہولٹ کے ہوائی اڈے پر پہنچایا گیا ہے جہاں سے برطانوی ایئر فورس طیارہ کا انہیں واپس ان کے آبائی ملک میں لے جانے کے لیے تیار کھڑا ہے۔اردن میں ابو قتادہ پر دہشتگردی کے الزام میں مقدمہ چلے گا۔

برطانیہ کی حکومت ابوقتادہ کو ملک بدر کرنے کی کوششوں میں سترہ لاکھ پونڈ خرچ کر چکی ہے۔

ابوقتادہ کو ملک بدر کرنے سےمتعلق ماضی میں جاری کیے والے احکامات کو برطانوی اور یورپی یونین کی عدالتوں نے اس بنا پر معطل کر دیا تھا کہ اردن میں ابوقتادہ کے خلاف مقدمات میں ایسی شہادتیں بھی استعمال ہو سکتی ہیں جو تشدد کے استعمال سے حاصل کی گئی ہیں۔

ابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ لی لیکن بعد میں برطانیہ میں یہودیوں کو اور اسلام کو چھوڑنے والے افراد کو ہلاک کرنے کی حمایت کرنے کی وجہ بدنام ہوئے۔