ابو قتادہ: ’سپریم کورٹ میں اپیل کی اجازت طلب‘

برطانوی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے اجازت مانگی ہے جس میں ابو قتادہ کو ملک بدر کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ اپیل کورٹ کے ججوں نے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ابو قتادہ کو اگر دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے اردن کے حوالے کیا گیا تو ان کے خلاف غیر منصفانہ عدالتی کارروائی ہو سکتی ہے۔
اب حکومت کا نیا اقدام ابو قتادہ کو ملک بدر کرنے کے حوالے سے ایک طویل قانونی جنگ کا حصہ ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے، ’حکومت اس خطرناک شخص کو ملک بدر کرنے لے کیے پرعزم رہے گی۔‘
’ہم اردن کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے تاکہ ملک بدر کرنے کے راہ میں حائل قانونی مسائل کو حل کیا جا سکے۔‘
اپریل 1999 میں ابوقتادہ پر اردن میں ان کی غیرموجودگی میں دہشت گردی کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھیں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔
اپیل کورٹ کے ججوں نے کہا تھا کہ عدالت یہ تسلیم کرتی ہے کہ قتادہ ’کو بہت خطرناک شخص سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بات انسانی حقوق کے قوانین کے تحت غیر متعلق ہے۔‘
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ابوقتادہ کو اردن بھیجنے سے’انصاف کی عدم فراہمی کا واضح خطرہ موجود ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نومبر 2012 میں ابو قتادہ کو اس وقت ضمانت پر رہا کیا گیا تھا جب عدالت نے وزیر داخلہ کی جانب سے ابو قتادہ کو اردن ملک بدر کرنے کی کوشش کو روک دیا تھا۔
تاہم گذشتہ ماہ انہیں ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پرگرفتار کیا گیا تھا۔
ابو قتادہ کو 2002 میں پہلی بار جنوبی لندن سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد وہ متعدد بار حراست میں لیے گئے اور بعد میں ضمانت پر رہا ہوئے، تاہم برطانیہ میں ان کے خلاف کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
فلسطین میں پیدا ہونے والے اور اردن کے شہری ابو قتادہ کو مجاہدین کا روحانی قائد کہا جاتا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کا خیال ہے کہ انھوں نے خودکش حملوں کو نظریاتی طور پر پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔







