یوروگوائے:گانجے کے استعمال کی قانوناً اجازت

جنوبی امریکہ کا ملک یوروگوائے گانجے کی کاشت، فروخت اور استعمال کو قانونی قرار دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔
ملکی پارلیمان میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل کو 12گھنٹے کی بحث کے بعد حتمی منظوری ملی۔
<link type="page"><caption> ’منشیات کے خلاف جنگ میں ناکامی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/06/110602_war_drugs_failed_ar.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’افیون کے خاتمے کی کوششیں ناکام‘</caption><url href="’افیون کے خاتمے کی کوششیں ناکام‘" platform="highweb"/></link>
اس قانون کے مطابق 18 سال کی عمر کے شہری ایک مہینے میں 40گرام تک گانجا خرید سکتے ہیں تاہم یہ قانون آئندہ برس اپریل سے پہلے نافذ العمل نہیں ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے منشیات فروش گروہوں سے نمٹنا آسان ہوگا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی وجہ مزید لوگ بھی منشیات کی طرف راغب ہو گے۔
اس قانون کے لیے رائے شماری کے موقعے پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر خوزے موخیکا کے درجنوں حامی کانگریس کے باہر جمع تھے۔
بل پیش کرتے ہوئے سینیٹر روبرٹو کانڈے نے کہا کہ یہ ایک ایسی حقیقت کا اعتراف ہے جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ہم منشیات کے خلاف جنگ ہار چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ یوروگوائے کی سرحدیں دیگر ممالک میں منشیات کی سمگلنگ کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
کئی سینیٹرز نے اس بل کی مخالفت بھی کی تاہم منگل کو اسے 13 کے مقابلے میں 16 ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔
حزبِ مخالف کے رہنما الفریڈو سولاری نے کہا کہ ’یوروگوائے کو اپنے لوگوں پر تجربہ نہیں کرنا چاہییے۔‘
خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’یہ منصوبہ کسی سوشل انجینیئرنگ کا تجربہ دکھائی دے رہا ہے، جس میں انسانوں پر تجربہ کرتے ہوئے حفاظتی اقدار کا خیال نہیں رکھا گیا۔ گانجا جیسی نشہ آور چیز کے سلسلے میں یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ انسانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘
یہ قانون یوروگوائے کے ایوانِ زیریں میں ماہِ جولائی میں منظور کیا گیا تھا۔
یوروگوائے کے اس اقدام پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے۔ منشیات کی روک تھام کے ادارے انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ نے خبردار کیا ہے یہ قانون ’منشیات سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل خلاف ورزی ہے جن کا یوروگوائے بھی حصہ ہے۔‘
آئی این سی بی اقوامِ متحدہ کی جانب سے مقرر کیے گئے ماہرین کا ایک ادارہ ہے جو منشیات کے بارے کیے گئے عالمی معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے ممالک پر نظر رکھتی ہے۔

یہ تاریخی اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب لاطینی امریکہ میں منشیات کی قانون سازی کے حوالے سے بحث میں اضافہ ہو رہا ہے۔
برازیل کے فرنینڈو ہینریک، میکسیکو کے ایرنیستو زیڈیلو سمیت کئی سابق صدور اور با اثر شخصیات کے ایک گروپ نےگانجا یا چرس کو قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
لیکن یوروگوائے کے صدر نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ رہنما دفتر چھوڑنے کے بعد ہی گانجا کی قانون سازی کی بات کیوں کرتے ہیں۔
جولائی میں برازیل کے دورے کے موقعے پر پوپ فرانسس نے یوروگوائے کا براہ راست نام لیے بغیر منشیات کو قانونی قرار دینے کے منصوبوں پر تنقید کی تھی۔







