اپنے ہی بچوں کو دودھ پلانے کے پیسے

برطانیہ میں نئی ماؤں کو اپنے نومولود بچوں کو دودھ پلانے کے عوض دو سو پاؤنڈ تک شاپنگ کے واؤچرز دیے جا سکتے ہیں جس کا مقصد انھیں اس عمل کی ترغیب دینا ہے۔
حکومت اور طبی تحقیق کے ادارے کے اشتراک سے یہ منصوبہ برطانوی علاقے جنوبی یارک شائر اور ڈربی شائر میں آزمائشی طور پر شروع کیا جائے گا۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو اسے اگلے سال انگلینڈ بھر میں شروع کیا جائے گا۔
مالی فائدے کو ترغیب کے طور پر استعمال کیا جانا برطانیہ کے طبی شعبے میں نیا نہیں ہے اور لوگوں کو تمباکو نوشی کم کرنے اور وزن کم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ایسا کیا جا چکا ہے۔ تاہم یہ پہلی بار ہے کہ اسے دودھ پلانے والی ماؤں کو ترغیب دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت شیفیلڈ اور چیسٹر فیلڈ کے بعض حصّوں میں ماؤں کو ایسے واؤچر دیے جائیں گے جنہیں وہ سپر مارکیٹ اور دکانوں میں خرچ کر سکیں گی۔
ان علاقوں کو منتخب کرنے کی وجہ یہاں دودھ پلانے والی ماؤں کے تناسب میں کمی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس علاقے میں سے صرف 25 فیصد مائیں اپنے بچے کو چھ سے آٹھ ہفتوں تک کے لیے دودھ پلاتی ہیں، جب پورے ملک میں یہ شرح 55 فیصد بنتی ہے۔
اس واؤچر کے حصول کے لیے ماں کو چھ مہینے تک اپنے بچے کو دودھ پلانا پڑے گا تاہم ماؤں کو 120 پاؤنڈ ابتدا ہی میں مل جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شعبۂ صحت کے کارکن اور دائیاں اس بات کی نگرانی کریں گی کہ مائیں دودھ پلا رہی ہیں یا نہیں۔
اس منصوبے کی سربراہ شیفیلڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر کلئیر ریلٹن کا کہنا ہے کہ شاید مالی فائدہ ماؤں کو ترغیب دے اور اس کے نتیجے میں بچوں کو دودھ پلانا دوبارہ عام روایت بن سکے۔







