کویت: ہمسایہ بادشاہتوں پر تنقید کرنے کی سزا برقرار

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور دیگر سماجی کارکنان نے کویت میں ایک بلاگر کی دس سال قید کی سزا برقرار رکھنے کی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
حامد النقی کو گزشتہ سال مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغمبرِ اسلام، سعودی عرب اور بحرین کے بادشاہ کی توہین کرنے سمیت دیگر الزام میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔
پیر کو ایک عدالت نے ان کی سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے جس کی ہیومن رائٹس واچ نے شدید مذمت کی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ: ’پیر کو عدالت کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کویتی آزادیِ رائے کا کتنا کم احترام کرتے ہیں۔‘
تنظیم نے کویتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حماد النقی کی سزا کالعدم قرار دے کر اس کو فوری طور پر رہا کیا جائے ۔
ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ کے ڈپٹی ایڈیٹر جو سٹارک کے مطابق: ’حماد النقی کو ہمسایہ بادشاہتوں پر تقنید کرنے کے الزام میں سزا دینا بین الاقوامی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سزا کے خلاف اپیل میں حکام کی جانب سے اس خلاف ورزی کی تلافی نا کرنا مایوس کن ہے۔‘
حماد النقی کو اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔
کویت میں سال دو ہزار بارہ میں اس وقت سے سیاسی بحران جاری ہے جب ایک آئینی عدالت نے قومی اسمبلی کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ ان انتخابات میں اسلام پسند حزب اختلاف نے قابل ذکر کامیابی حاصل کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس کے بعد سے عوامی استغاثہ نے درجنوں سیاسی رہنماؤں، انٹرنیٹ پر حقوقِ انسانی کی مہم چلانے والے کارکنوں اور صحافیوں کو کویت کے امیرِ کویت کی توہین کے الزامات میں سزا دی گئی ہے۔
گزشتہ سال جون میں عدالت نے ایک خاتون کو مائیکرو بلاکنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ریاست کے امیر کی توہین اور ملک میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے کے الزام میں 11 برس قید کی سزا سنائی تھی۔
خیال رہے کہ کویت میں دیگر عرب ممالک کی طرح حکومت مخالف تحریک تو نہیں چلی ہے لیکن یہاں سابق ارکانِ اسمبلی اور ملک کے حکمران صباح خاندان کے درمیان کشیدگی ضرور پائی جاتی ہے۔







