ٹوئٹر پر امیرِ کویت کی’توہین‘پر 11 سال قید

کویت کے آئین کے مطابق ملک کے امیر کی توہین ایک جرم ہے
،تصویر کا کیپشنکویت کے آئین کے مطابق ملک کے امیر کی توہین ایک جرم ہے

کویت میں عدالت نے ایک خاتون کو مائیکرو بلاکنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ریاست کے امیر کی توہین اور ملک میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے کے الزام میں 11 برس قید کی سزا سنائی ہے۔

سینتیس سالہ استانی ہدیٰ العجمی کو ان کے موبائل فون کے غلط استعمال کا مجرم بھی قرار دیا گیا ہے تاہم ہدیٰ اپنی ان سزاؤں کے خلاف اپیل کر سکتی ہیں۔

کویت میں حالیہ چند ماہ میں حکمران شیخ صباح الصباح کو توہین کے الزام میں ٹوئٹر استعمال کرنے والے کئی افراد کو سزا دی گئی ہے۔

ملک کے آئین کے مطابق کویت کے امیر کو تحفظ حاصل ہے اور ان کی توہین کی اجازت نہیں۔

رواں برس مئی میں ایک عدالت نے ملک کی حزبِ اختلاف کے اہم رہنما مسلّم الباراک کو امیرِ کویت کی مبینہ توہین پر دی جانے والی پانچ سالہ سزا ختم کی تھی۔

کویت اسمبلی کے سابق رکن مسلّم الباراک کو گزشتہ برس اکتوبر میں ایک جلسے میں ان کی اس تقریر کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جس میں انہوں نے امیرِ کویت پر زور دیا تھا کہ وہ ملک میں مطلق العنان حکمرانی سے گریز کریں۔

انہیں رواں برس اپریل میں سزا سنائی گئی تھی جو ان کے وکیل کے مطابق اب کالعدم قراد دے دی گئی ہے۔

مسلّم الباراک کے مقدمے پر کویت میں احتجاج اور مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادم کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔

خیال رہے کہ کویت میں دیگر عرب ممالک کی طرح حکومت مخالف تحریک تو نہیں چلی ہے لیکن یہاں سابق ارکانِ اسمبلی اور ملک کے حکمران صباح خاندان کے درمیان کشیدگی ضرور پائی جاتی ہے۔