امریکہ نے مصر کی فوجی امداد معطل کر دی

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق مصر کو دی جانے والی ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کا بڑا حصہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
امریکہ کے مطابق بڑے فوجی آلات کے علاوہ نقد رقم بھی اس میں شامل ہے۔امریکہ پہلے ہی مصر کو ایف سولہ جنگی جہازوں کی فراہمی روک چکا ہے۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق مصر کو لازمی طور پر شفاف انتخابات کے لیے’قابل اعتبار‘ پیش رفت کرنا ہو گا۔
مصر کی فوج کو دی جانے والے اس امداد پر نظر ثانی اگست میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب محمد مرسی کی معزولی کے بعد حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔
محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکئی کے مطابق’ہم اس وقت تک حکومت کو نقد رقم اور بڑے عسکری آلات کی فراہمی روکے رکھیں گے جب تک یہ قابل اعتبار طور پر جمہوری طریقے سے آزادانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے سویلین حکومت کی جانب پیش رفت نہیں کرتی ہے‘۔
حکام کا کہنا ہے کہ سینکڑوں ملین ڈالر کی امداد معطل کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی حکام کے مطابق اس پر بھی سوچا جا رہا ہے کہ مصر کو 26 کروڑ ڈالر کی رقم اور 30 کروڑ ڈالر قرض کی ضمانت بھی روک دی جائے۔
اس کے علاوہ جنگی ہیلی کاپٹر اپاچی، ہارپون میزائل اور ٹینکوں کے پرزوں کی فراہمی بھی روکی جا رہی ہے۔
واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار کمِ گاٹیس کے مطابق امریکی امداد میں کمی محض علامتی ہے اور یہ صرف کلائی پر چپت مارنے کے برابر ہے کیونکہ بنیادی امداد میں تکلیف دے کمی نہیں کی گئی ہے۔
امریکی مصر کو صحت اور تعلیم کے شعبے کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی اور سرحدی حفاظت کی مد میں دی جانے والی امداد جاری رکھے گا۔
محمد مرسی کی معزولی سے قبل وائٹ ہاؤس نے مصر کے لیے 2014 کے لیے ڈیڑھ ارب سے زائد کی امداد کی درخواست کی تھی۔ اس میں سے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر فوج کے لیے اور 25 کروڑ معاشی امداد کے لیے تھے۔
بدھ کو ہی معزول صدر محمد مرسی کے خلاف قتل پر اکسانے اور تشدد کے الزامات پر آئندہ ماہ چار نومبر سے مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
محمد مرسی کے علاوہ اخوان المسلمون کے 14 دیگر رہنماؤں ہر بھی یہی الزام ہے۔
مرسی پر گذشتہ برس صدارتی محل کے باہر ہونے والے مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
محمد مرسی کی معزولی کے بعد مصر بھر میں ان کے حق اور مخالفت میں پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا۔ جس کے بعد جھڑپوں میں سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں۔

اتوار کو متعدد شہروں میں مرسی کے حامیوں، مخالفین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
گذشتہ دو ماہ میں اخوان المسلمون کے ہزاروں ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ محمد مرسی اور تحریک کے مرکزی رہنما محمد بدیع سمیت کئی سینیئر ارکان کو تشدد اور قتل کے لیے اکسانے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مصر میں ایک عدالت نے معزول صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کی ’تمام سرگرمیوں‘ پر پابندی بھی عائد کر رکھی ہے۔
پچاسی سال پرانی اسلامی جماعت پر مصر کی فوج نے 1954 میں پابندی عائد کر دی تھی۔ اخوان المسلمین کے مخالفین نے اس کی قانونی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا جس کے نتیجے میں جماعت نے رواں سال مارچ میں خود کو این جی او کے طور پر رجسٹر کروا لیا تھا۔







