چین:بیٹے کی پرتعیش شادی کرنے پر افسر برطرف

چین میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک سرکاری ملازم کو اپنے بیٹے کی پرتعیش شادی کرنے پر برطرف کر دیا گیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق تین روز تک جاری رہنے والی شادی کی تقریب پر دو لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر خرچ کیے گئے۔
مہمانوں کے لیے مہنگی گاڑیوں کے انتطامات کیے گئے اور انہیں تفریحی مقامات کی سیر کرائی گئی۔
بیجنگ کے مضافات میں ضلع چوینگ کے ایک گاؤں کے نائب سربراہ ما لِن شیانگ کے مطابق شادی کے زیادہ تر اخراجات دلہن کے خاندان نے برداشت کیے۔
چینی حکومت نے سرکاری اہل کاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ دولت کی نمائش نہ کریں کیونکہ اس سے عوام کے غصے میں اضافہ ہوتا ہے۔
بیجنگ نیوز کے مطابق شادی کی پرتعیش تقریب گذشتہ اختتام ہفتہ پر قومی تعطیل کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔
تقریب میں مہمانوں کے لیے 210 میزیں سجائی گئی تھیں اور تقریب کا کچھ حصہ ایک کنوینشن سنٹر میں منعقد کیا گیا جہاں بیجنگ اولمپکس 2008 کے کھیل منعقد ہوئے تھے۔
سرکاری خبر رساں ادارے شن ہُوا نیوز کے مطابق ضلع چوینگ میں نظم و ضبط قائم رکھنے سے متعلق کیمونسٹ پارٹی کی مقامی معائنہ ٹیم نے مسٹر ما کو ان کے عہدے سے برطرف کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معائنہ ٹیم کو ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جن سے ثابت ہو کہ ما لِن شیانگ نے سرکاری وسائل خرچ کیے ہیں لیکن ٹیم کے خیال میں حد سے زیادہ خرچ کرنے سے ملک میں حکمراں جماعت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق چین میں سرکاری سطح پر بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے اور خاندانی تقریبات جیسا کہ شادی وغیرہ میں تحائف کے نام پر رشوت لی جاتی ہے۔
ما لِن شیانگ نےشن ہوا نیوز کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ شادی کی تقریب پر کتنی رقم خرچ ہوئی کیونکہ زیادہ تر خرچ دلہن کے خاندان نے برداشت کیا ہے۔
بیجنگ نیوز کے مطابق تقریبات منعقد کرنے والی مقامی افراد کے مطابق اس تقریب پر تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر کا خرچ آیا ہے۔
سرکاری اہلکار کو برطرف کرنے پر چین میں سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ وائبو پر خوب پذیرائی ہوئی ہے۔ اس میں حکومت کی ایسے اقدامات پر حمایت کی گئی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ایسے اہل کاروں کو دفاتر سے نکال دینا چاہیے۔
دیگر صارفین کا کہنا ہے کہ کیسے ایک گاؤں کا نائب سربراہ اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کا اہل ہو سکتا ہے اور اس کے پیچھے لازماً کوئی چکر ہے۔







