’بارہ افراد کا قاتل بحریہ کا سابق ملازم تھا‘

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں بحریہ کے ایک اڈے پر بارہ افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کو بحریہ کے سابق ملازم ایرن الیکسز کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نیوی یارڈ میں ان افراد کو ہلاک کرنے کے بعد پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے 34 سالہ الیکسز کا تعلق امریکی ریاست ٹیکساس کے علاقے فورٹ ورتھ سے تھا۔
<link type="page"><caption> امریکہ میں اسلحہ پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/12/121216_us_striker_gun_control_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> اسلحہ پر کنٹرول کے لیے ٹھوس تجاویز دیں: اوباما</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/12/121220_obama_gun_control_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکی بحریہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے جنوب مشرق میں واقع نیوی سسٹمز کمانڈ ہیڈ کوارٹرز میں پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بج کر بیس منٹ فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں۔
ایرن الیکسز کی اس کارروائی میں بارہ افراد کی ہلاکت کے علاوہ دیگر ایک درجن افراد زخمی بھی ہوئے۔
امریکی صدر براک اوباما نے ان ہلاکتوں پر وائٹ ہاؤس اور کیپیٹل ہل پر امریکی پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے اس حملے کو ’بزدلانہ کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔

تاحال اس حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ حملہ آور الیکسز نے 2007 سے 2011 کے دوران بحریہ کے ریزرو دستوں میں بطور پیٹی افسر تھرڈ کلاس خدمات سرانجام دی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ واضح نہیں کہ اس نے بحریہ کیوں چھوڑی تاہم امریکی بحریہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اسے بدنظمی کے متعدد واقعات کے بعد نکالا گیا تھا۔
امریکی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق الیکسز نے بودھ مذہب اختیار کر لیا تھا اور ماضی میں اسے دو مرتبہ حراست میں بھی لیا گیا تھا۔
واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ الیکسز نے اس سخت نگرانی والے اڈے کی ایک راہداری اور کیفے ٹیریا میں موجود افراد پر گولیاں برسائیں۔
واشنگٹن ڈی سی کی پولیس کی سربراہ کیتھی لینیئر نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آور کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ پولیس اہلکاروں سے فائرنگ کا تبادلہ کر رہا تھا۔
ابتدائی طور پر پولیس نے بتایا تھا کہ وہ دو ممکنہ حملہ آوروں کی تلاش میں ہے تاہم بعد میں کہا گیا کہ دو مشتبہ افراد میں سے ایک شک کے دائرے سے باہر ہے۔

اس واقعے کے بعد امدادی اداروں کی درجنوں گاڑیاں عمارت کے گرد جمع ہوگئی تھیں جبکہ ہیلی کاپٹروں نے علاقے کی نگرانی شروع کر دی۔
نیوی یارڈ میں کام کرنے والی پیٹریشیا وارڈ نے سات مرتبہ گولی چلنے کی آواز سنی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے تین گولیاں چلیں پھر وقفے کے بعد چار مزید فائر ہوئے اور ’سب کچھ بہت تیزی سے ہوا، میں تو بھاگ کھڑی ہوئی۔‘
ایرن الیکسز کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم جارج واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی ہسپتال کے حکام کے مطابق مرنے والوں میں ساٹھ کے پیٹے کا ایک شخص بھی ہے جس کے سر میں گولی لگی۔
ہسپتال کے حکام کے مطابق زخمیوں میں سے ایک پولیس افسر کی ٹانگ، ایک خاتون کے سر اور ہاتھ اور ایک اور خاتون کے کندھے میں گولیاں لگیں تاہم ان سب کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
امریکی نیوی کے مطابق واشنگٹن نیوی یارڈ امریکی بحریہ کا سب سے پرانا ساحلی ٹھکانا ہے اور اسے پہلی بار 19 ویں صدی میں کھولا گیا تھا۔اس یارڈ میں تقریباً تین ہزار افراد کام کرتے ہیں۔







