اسانژ کا سیاسی میدان میں اترنے کا اعلان

وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولین اسانژ نے رواں برس اپنے آبائی ملک آسٹریلیا میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سیاسی جماعت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعلان لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کیا۔
اپنے خطاب میں جولین اسانژ نے کہا کہ ان کی جماعت جس کا نام ’وکی لیکس‘ ہی ہوگا اور اس کے تحت نیو ساؤتھ ویلز، وکٹوریہ اور مغربی آسٹریلیا سے وفاقی سینیٹ کی نشستوں کے لیے خود اسانژ سمیت سات امیدوار انتخابی میدان میں اتریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے امیدواروں کی فتح ملکی سینیٹ میں ’بہترین محقق صحافیوں‘ کی تعیناتی کے مترادف ہوگی۔
بیالیس سالہ اسانژ نے بتایا کہ وہ خود وکٹوریہ سے الیکشن میں حصہ لیں گے اور منتخب ہونے کی صورت میں ’حکومت کی سرگرمیوں کے آزاد تفتیش کار‘ کا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
آسٹریلیا میں رواں برس نومبر کے اختتام سے قبل انتخابات ہونے ہیں اور ان میں موجودہ وزیراعظم کیون رڈ کی لیبر پارٹی کا مقابلہ ٹونی ایبٹ کی کنزرویٹو پارٹی سے ہوگا جن جائزوں کے مطابق معمولی برتری حاصل ہے۔
خیال رہے کہ جولین اسانژ برطانیہ سے ملک بدری سے بچنے کے لیے ایک برس سے زیادہ عرصے سے اس سفارتخانے میں مقیم ہیں۔
وہ مجرمانہ جنسی حملے کے الزامات میں ایک مقدمے میں سوئیڈش حکام کو مطلوب ہیں جن سے وہ انکار کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سویڈن کے حکام جولین اسانژ سے وکی لیکس کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی دو خواتین کی جانب سے دو ہزار دس کے وسط میں لگائے گئے جنسی زیادتی کی کوشش کے الزامات کے بارے میں تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ابھی تک اسانژ پر باقاعدہ طور پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی ہے۔
ادھر جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ اس جنسی عمل میں فریقین کی رضامندی شامل تھی۔







