’قید میں ویکیوم کلینر ڈیزائن کر سکتا ہوں؟‘

امریکہ میں گيارہ ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمدنے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی حراست کے دوران ویکیوم کلینر ڈیزائن کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔
خالد شیخ محمد پاکستانی نژاد ہیں جنہوں نے امریکہ سے ہی مکینکل انجینیئرنگ میں ڈگری حاصل کی تھی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دو ہزار تین میں جب خالد شیخ محمد رومانیہ میں پوچھ گچھ کے لیے سی آئي اے کی قید میں تھے تبھی انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ ویکیوم کلینر ڈیزائن کر سکتے ہیں۔
سی آئی اے کے ایک سابق افسر نے اے پی کو بتایا کہ شیخ محمد نے ویکیوم کلینر کو از سر نو ڈیزائن کرنے کے لیے آن لائن دستیاب گائیڈ لائنز کی مدد لیں۔
نیوز ایجنسی کے مطابق سی آئی اے چاہتی تھی کہ اس کے قیدی ذہنی طور پر صحیح رہیں۔ سابق افسر نے اے پی کو بتایا ’ہم نہیں چاہتے تھے کہ وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو جائیں۔‘
خالد شیخ محمد کو دو ہزار تین میں گرفتار کیا گيا تھا اور پولینڈ میں ان سے پوچھ گچھ کے دوران انہیں شدید ایذائیں دی گئی تھیں۔ انہیں سونے نہیں دیا جاتا تھا اور پانی میں ڈوبو کر ان پر تشدد کیا گيا جسے واٹر بورڈنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ستمبر دو ہزار تین میں پولینڈ میں سی آئی اے کی جیل کو بند کر دیا گیا تھا اور پھر خالد شیخ محمد کو رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ منتقل کر دیا گيا تھا۔
اس حراستی مرکز میں قیدیوں کو پڑھنے کے لیے کتابیں مہیا کی گئی تھیں اور اطلاعات کے مطابق خالد کو ہیری پوٹر سیریز بہت پسند تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے امریکہ میں نارتھ کیرولائنا میں تعلیم حاصل کی تھی اور ریاستی یونیورسٹی سے انجینیئرنگ کی ڈگری لی تھی۔
اس وقت وہ گوانتنامو جیل میں قید ہیں۔ ان کے وکیل جیسن رائٹ نے اے پی کو بتایا کہ انہیں ویکیوم کلینر بنانے سے متعلق بات کرنے سے منع کیا گيا تھا۔







