’آپ کے فنگر پرنٹس صحیح نہیں آئے‘

قزاقستان کے ایک آرٹسٹ جن کے ہاتھ نہیں ہیں اور وہ منہ میں برش دبا کر پینٹنگ کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ ان کو برطانیہ کا ویزہ اس لیے نہیں دیا گیا کہ ویزہ فارم پر ان کے فنگر پرنٹس یعنی انگلیوں کے نشان نہیں تھے۔

کریبیک کویوکوو ایڈنبرا میں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف منعقد کی جانے والی کانفرنس میں حصہ لینا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کو استنبول میں برطانوی قونصلیٹ سے ایک خط ملا جس میں کہا گیا تھا کہ ویزہ فارم پر ان کے انگلیوں کے نشان صحیح نہیں آئے اس لیے دوبارہ وازہ فارم جمع کرائیں۔

تاہم برطانیہ کا کہنا ہے کہ ان کو ویزہ دینے سے انکار نہیں کیا گیا تھا اور یہ سب کچھ ’غلط فہمی‘ کا نتیجہ ہے۔

کویوکوو کا کہنا ہے ’ہو سکتا ہے کہ ان کو یہ سمجھ میں نہیں آیا ہو کہ میں معذور ہوں یا پھر انہوں نے میرا ویزہ فارم صحیح طریقے سے دیکھا ہی نہ ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میں نے اپنے ویزہ فارم میں صاف لکھا تھا کہ میں آرٹسٹ ہوں اور میرے ہاتھ نہیں ہیں۔ میں منہ میں اور پیروں میں پینٹ برش لے کر پینٹنگ کرتا ہوں۔‘

کویوکوو روس کے علاقے سیمیپلاٹنسک میں پیدا ہوئے تھے۔ اس علاقے میں روس ایٹمی تجربات کیا کرتا تھا۔ اس علاقے میں ہزاروں بچے معذور پیدا ہوئے تھے۔

کویوکوو گزشتہ بیس برس سے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف پینٹنگ کر کے مہم چلا رہے ہیں۔