قزاقستان کا ’ایٹمی بینک‘ کا انوکھا منصوبہ

ڈینس ڈینیئلوسکی مشرقی قزاقستان کے شہر اوست کمینوگورسک کے قریب واقع ایک پہاڑی پر ایستادہ دھواں دیتی ہوئی چمنیوں کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں ’ہم ایک گیس چیمبر میں رہ رہے ہیں۔‘
ڈینیئلوسکی ایک مقامی اخبار کے مدیر ہیں۔
اس اخبار میں قزاق حکومت کے اس منصوبے کے بارے میں لکھا جاتا رہا ہے جس کے تحت البا دھات ساز فیکٹری میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ایک ایٹمی ’ایندھن بینک‘ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ایک زمانے میں یہ ٹاپ سیکرٹ روسی عمارت تھی، لیکن اب یہ قزاقستان میں سب سے بڑی یورینیم تیار کرنے والی فیکٹری ہے۔
ڈینیئلوسکی کہتے ہیں، ’یہاں پر ہوا پہلے ہی بہت آلودہ ہے، اور آس پاس کے لوگوں میں لفظ ایٹمی سے منفی ردِعمل پیدا ہو جاتا ہے۔‘
لیکن قزاق حکومت کا نقطۂ نظر اس سے مختلف ہے۔ 2009 میں صدر نورسلطان نظربایف نے بین الاقوامی جوہری ادارے آئی اے ای اے کی نگرانی میں ایک جوہری ایندھن بینک قائم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
اس منصوبے کا مقصد ایران جیسے ملکوں کو یورینیئم افزودہ کرنے کی ٹیکنالوجی خود تیار نہ کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔ اس کے بجائے ان ممالک کو اپنے ایٹمی ری ایکٹر چلانے کے لیے مستقل بنیادوں پر کم افزودہ یورینیئم فراہم کیا جا سکے گا۔

قزاقستان اور آئی اے ای اے کے درمیان اس معاملے پر باضابطہ مذاکرات پچھلے برس شروع ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی اے ای اے کے وفد نے اوست کمینوگورسک میں اس مجوزہ جگہ کا دورہ کیا تھا اور قزاقستان کی حکومت کو کئی سفارشات پیش کی تھیں۔
قزاقستان کی ایٹمی توانائی کمیٹی کے چیئرمین تمیر ژانتیکن کہتے ہیں ’صحتِ عامہ اور ماحول پر اس پلانٹ کا اثر عملی طور پر صفر کے برابر ہو گا کیوں کہ اسے بین الاقوامی معیار کے تحت چلایا جائے گا۔ البا پلانٹ اس شعبے میں گذشتہ 60 سال سے کام کر رہا ہے، اور ان کے پاس ایٹمی سلامتی اور سکیورٹی کا بلند معیار موجود ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’ہم نے کبھی کاروباری ترجیحات کے بارے میں نہیں سوچا کیوں کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایٹمی عدم پھیلاؤ ہے۔‘
قزاقستان کی قیادت ایٹمی عدم پھیلاؤ کے ضمن میں ملک کی تاریخ پر نازاں ہے۔ قزاقستان نے 1991 میں سوویت یونین کا ایک تجرباتی ایٹمی ری ایکٹر بند کر دیا تھا جہاں چار عشروں میں 450 سے زائد ایٹمی تجربات کیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد قزاقستان بہت سے ایٹمی ہتھیاروں سے رضاکارانہ طور پر دست بردار ہو گیا تھا۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی مذاکرات منعقد کروانے اور ایٹمی ایندھن بینک کے منصوبے کی وجہ سے قزاقستان کی بطور امن کار شبیہ میں اضافہ ہوا ہے۔
تاہم اب تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، جرمنی اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوران ایندھن بینک کی تجویز پر بات نہیں ہوئی۔
برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں ایران کے ماہر پروفیسر سکاٹ لوکس کہتے ہیں ’جب تک ایران کے مسئلے پر کوئی واضح قرارداد نہ آ جائے، اس وقت تک بینک کے معاملے پر عمومی بحث نہیں ہو گی۔ یہ انڈا پہلے پیدا ہوا یا مرغی جیسا معاملہ ہے۔‘
گذشتہ ستمبر کو آئی اے ای اے کے ڈائرکٹر جنرل یوکیو امانو نے کہا تھا کہ قزاقستان میں کم افزودہ یورینیئم بینک قائم کرنے کے معاملے پر پیش رفت جاری ہے۔
لیکن اس سلسلے میں کوئی حتمی مہلت مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ کون سے ملک اس منصوبے میں شامل ہوں گے۔
قزاقستان کی جانب سے چار سال قبل اس منصوبے کے اعلان کے بعد بھی اب تک اوست کمینوگورسک کے باسیوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
ایران کی جانب سے یورینیئم کی افزودگی کے پروگرام کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہ ہونے کے باعث فی الحال ایٹمی بینک بین الاقوامی امن کے لیے کسی ٹھوس قدم کی بجائے صرف ایک خیال ہی کی حیثیت رکھتا ہے۔







