ڈھاکہ: ہلاکتیں 500 سے تجاوز کر گئیں

ڈھاکہ
،تصویر کا کیپشنعمارت کے چھ سو ٹن ملبے کو ہٹانے کا عمل جاری ہے

بنگلہ دیش میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے سوار میں آٹھ منزلہ عمارت کے انہدام سے مرنے والوں کی تعداد 500 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

فوج کے ایک اہلکار کے مطابق دن قبل گرنے والی اس عمارت کے ملبے سے لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ کی صبح تک 501 لاشیں نکالی گئی ہیں۔

رانا پلازہ نامی اس عمارت میں ملبوسات تیار کرنے والے پانچ کارخانے قائم تھے اور یہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں اب تک عمارت کے مالک سمیت 9 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں فیکٹریوں کے مالکان اور انجینيئرز بھی شامل ہیں اور ان پر لاپرواہی برتنے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ اس عمارت میں منہدم ہونے سے ایک دن قبل ہی شگاف پڑنے شروع ہو گئے تھے لیکن وہاں کام کرنے والوں کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔

جمعرات کو ڈھاکہ پولیس نے ایک اور انجینیئر کو حراست میں لیا۔ پولیس کے مطابق عبدالرزاق خان رانا پلازہ کے مالک محمد سہیل رانا کے مشیر تھے۔ رانا سہیل پر عمارت میں غیرقانونی طور پر منزلیں تعمیر کرنے کا الزام بھی ہے۔

اس حادثے کے بعد سے جمعرات کو بنگلہ دیش میں پہلی مرتبہ ملبوسات تیار کرنے والے کارخانوں میں کام شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل حادثے کے بعد سے فیکٹریاں بند تھیں کیونکہ وہاں مسلسل مظاہرے ہو رہے تھے۔

مظاہرین حادثے کے ذمہ دار افراد کے لیے سخت ترین ‎سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عمارت کے انہدام سے ہونے والی ہلاکتیں قتل کے مترادف ہیں۔