
افغان اور نیٹو افواج کے مشترکہ آپریشن صرف بٹالین کی سطح پر کیے جائیں گے
نیٹو نے افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں پر افغان فوجیوں کے حملوں کے بڑہتے ہوئے واقعات اور صرف اس برس ایسے واقعات میں پچاس سے زیاد غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغان اور اتحادی افواج کے مشترکہ گشت کا سلسلہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیٹو حکام کی طرف سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کے اعلان شدہ نظام الاوقات میں صرف ستائیس ماہ باقی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اب صرف بڑے آپریشنز میں ہی مشترکہ کارروائی ہو گی جبکہ مشترکہ گشت کا فیصلہ حالات کو مدِنظر رکھ کر ہی کیا جائے گا۔
ایساف کے مطابق یہ ایک ’محتاط مگر عارضی انتظام ہے اور اس کا مقصد نقصان کو کم کرنا ہے‘۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کے کمانڈر اس بات پر سیخ پا ہیں کہ افغان حکام اس قسم کے حملوں کی روک تھام کے لیے موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
بی بی سی کے جوناتھن مارکس کے مطابق نیٹو کے انتظامی طریقۂ کار میں لائی جانے والی اس تبدیلی کی بہتر طریقے سے وضاحت نہیں کی گئی اور عملی طور پر کیا چیز بدلے گی اس بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔
ان کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد واضح طور پر افغان فوجیوں کے ہاتھوں نیٹو کے فوجیوں کی ہلاکتوں کو کم کرنا ہے کیونکہ ایسے حملے نیٹو کے مشن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔
جوناتھن مارکس کے مطابق افغانستان میں نیٹو افواج کی جنگی کارروائیاں دو ہزار چودہ میں ختم ہوجائیں گی اور وہاں ان کا کردار تربیت اور مشاورت کی حد تک رہ جائے گا جس کے لیے اعتماد اور شراکت بنیادی شرط ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افغان فوجیوں کے نیٹو کے فوجیوں پر حملے اعتماد سازی کے لیے تباہ کن ہیں اور ان کا اثر ہلاک ہونے والے فوجیوں کی گنتی سے کہیں زیادہ ہے۔
دو سے اکیاون تک
رواں برس اب تک افغان فوجیوں کے ہاتھوں نیٹو کے اکیاون فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے پندرہ صرف گزشتہ ماہ مارے گئے۔ سنہ دو ہزار آٹھ میں یہ تعداد صرف دو تھی۔
برطانیہ کے وزیرِ دفاع فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مطلب حکمتِ عملی میں تبدیلی نہیں بلکہ ’یہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ بٹالین کی سطح سے نیچے افغان فوجیوں سے کسی قسم کی بھی شراکت باقاعدہ طور پر خطرات کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی کی جائے‘۔
نیٹو کے بریگیڈئر جنرل گنٹر کاٹز نے کہا ہے کہ ’جنرل ایلن اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے فوجیوں کے حفاظتی انتظامات ٹھیک ہیں‘۔
نیٹو کی زیرِ قیادت ایساف کی مشترکہ کمان کا کہنا ہے کہ اسلام مخالف فلم کے تناظر میں افغانستان کے اندر اور باہر پیش آنے والے واقعات بھی مشترکہ کارروائیاں محدود کرنے کی ایک وجہ ہیں۔
رواں برس اب تک افغان فوجیوں کے ہاتھوں نیٹو کے اکیاون فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے پندرہ صرف گزشتہ ماہ مارے گئے۔ سنہ دو ہزار آٹھ میں یہ تعداد صرف دو تھی۔
ایساف کی جانب سے جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان اور نیٹو افواج کے مشترکہ آپریشن صرف بٹالین کی سطح پر کیے جائیں گے جن میں کئی سو فوجی شامل ہوں گے۔
تاہم بیان کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سطح سے نیچے کوئی شراکت نہیں ہوگی اور اس کا فیصلہ حالات کو مدِنظر رکھ کر کیا جائے گا لیکن اس کی منظوری میجر جنرل عہدے کا افسر ہی دے سکےگا۔
ایساف کا کہنا ہے کہ وہ ’افغانستان کی قومی افواج کے ساتھ تربیت، مشاورت اور مدد کے سلسلے میں شراکت کے لیے پرعزم ہے‘۔
کابل میں بی بی سی کے کوئنٹن سمرویل کا کہنا ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ میں افغان اور نیٹو افواج نے شانہ بشانہ حصہ لیا ہے اور یہ نئی پابندیاں افغانستان میں نیٹو کی حکمتِ عملی کے لیے بڑا دھچکا ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق عملی طور پر اب امریکی فوجی اپنے اڈوں میں ہی رہیں گے جبکہ افغان فوجی اکیلے گشت کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات افغان حکومت کے لیے بھی واضح اشارہ ہے کہ افغان پولیس اور فوج میں بھرتی کیے جانے والے افراد کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ انہیں ان تبدیلیوں کے بارے میں منگل کو نیٹو کی جانب سے ہنگامی طور پر طلب کیے گئے اجلاس میں سرکاری طور پر آگاہ کیا گیا ہے






























