
کابل میں مظاہرین نے امریکہ مخالف نعرہ بازی کی ہے
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیغمبر اسلام کے بارے میں بنی توہین آمیز فلم کے خلاف پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں جس کے دوران احتجاج کرنے والوں کی جانب سے فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔
تقریباً ایک ہزار افراد نے کابل میں ان مقامات کے پاس احتجاجی مظاہرہ کیا جہاں امریکہ اور نیٹو کی تنصیبات ہیں۔
کابل کی پولیس کے سربراہ جنرل ایوب سلانگي کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پھینکے گئے ایک پتھر میں وہ خود زخمی ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ کچھ مسلح مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ مظاہرہ کرنے والوں میں بہت سے ناراض احتجاجی ہیں۔ میں نے پولیس کو گولی نا چلانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ہم پہ پتھراؤ کیا جس میں ایک مجھے لگا اور میں زخمی ہوگیا ہوں۔‘
دیگر مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور پولیس کی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے۔ علاقے میں جلتے ٹائر کا دھواں اٹھتا دیکھا گيا اور احتجاج کے بڑھتے ہی لوگ دکانیں بن کرکے چلے گئے۔
مظاہرین نے امریکہ کے خلاف نعرہ بازی کی۔ کابل میں امریکی سفارت خانے کے تحفظ کے لیے افغان پولیس کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گيا تھا۔
"کچھ مسلح مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ مظاہرہ کرنے والوں میں بہت سے ناراض احتجاجی ہیں۔ میں نے پولیس کو گولی نا چۂانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ہم پہ پتھراؤ کیا جس میں ایک مجھے لگا اور میں زحمی ہوگیا ہوں۔"
کابل پولیس سربراہ
لبنان میں شیعہ مسلمانوں کے مسلح گروپ حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے پیغمبرِ اسلام پر متنازع فلم کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
پیر کو شیخ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمان اس بے حرمتی کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔
متنازع فلم کے خلاف مسلم دنیا کے کئی شہروں کے علاوہ مختلف امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔
حزب اللہ کے ٹیلی ویژن المنار پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں شیخ حسن نصراللہ نے کہا کہ وہ اس موضوع پر بولنے سے پہلے انتظار کر رہے تھے کہ پوپ بینیڈکٹ لبنان کا تین روزہ دورہ مکمل کر کے واپس چلے جائیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ’ملوث افراد کا احتساب ہونا چاہیے، سزا ملنی چاہیے، کارروائی ہونے چاہیے اور اس میں براہ راست ملوث اور پیچھے تمام افراد کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور جو ان کی حمایت اور ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر امریکہ۔‘
انہوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہرے رواں ہفتے کیے جائیں گے۔
پیر کو پہلا احتجاجی مظاہرہ بیروت کے مضافات میں ہو گا جو کہ حزب اللہ کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔
لبنان میں حالیہ دنوں متنازع فلم کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر سنی مسلمانوں کے اکثریتی شہر طرابلس میں ہوئے۔
خیال رہے کہ امریکہ میں حکام پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم بنانے والے مشتبہ شخص نکولا باسولی نکولا کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کر رہے ہیں۔
اس توہین آمیز فلم کے خلاف اسلامی ممالک میں بالعموم اور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں بالخصوص پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے نتیجے میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔






























