
شیخ حسن نصراللہ کے اعلان کے مطابق مظاہروں کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہے گا
لبنان میں شیعہ مسلمانوں کے مسلح گروپ حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے پیغمبرِ اسلام پر متنازع فلم کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
پیر کو شیخ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمان اس بے حرمتی کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔
متنازع فلم کے خلاف مسلم دنیا کے کئی شہروں کے علاوہ مختلف امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔
حزب اللہ کے ٹیلی ویژن المنار پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں شیخ حسن نصراللہ نے کہا کہ وہ اس موضوع پر بولنے سے پہلے انتظار کر رہے تھے کہ پوپ بینیڈکٹ لبنان کا تین روزہ دورہ مکمل کر کے واپس چلے جائیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ’ملوث افراد کا احتساب ہونا چاہیے، سزا ملنی چاہیے، کارروائی ہونے چاہیے اور اس میں براہ راست ملوث اور پیچھے تمام افراد کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور جو ان کی حمایت اور ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر امریکہ۔‘
انہوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہرے رواں ہفتے کیے جائیں گے۔
پیر کو پہلا احتجاجی مظاہرہ بیروت کے مضافات میں ہو گا جو کہ حزب اللہ کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔
لبنان میں حالیہ دنوں متنازع فلم کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر سنی مسلمانوں کے اکثریتی شہر طرابلس میں ہوئے۔
خیال رہے کہ امریکہ میں حکام پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم بنانے والے مشتبہ شخص نکولا باسولی نکولا کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کر رہے ہیں۔
اس توہین آمیز فلم کے خلاف اسلامی ممالک میں بالعموم اور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں بالخصوص پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے نتیجے میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔






























