
امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ سوڈانی حکومت نے دہشتگرد تنظیموں کی کارروائیاں روکنے کے لیے چند اقدامات کیے ہیں تاہم دہشتگردی کے خطرات کا عنصر پھر بھی موجود ہے
امریکہ نے سوڈان اور تیونس میں اپنے سفارتخانوں سے تمام غیر ضروری سفارتی عملہ اور ان کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان میں تیونس میں موجود تمام امریکی شہریوں کو بھی ملک چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔
تیونس اور سوڈان میں امریکی سفارتخانوں پر امریکہ مخالف مظاہروں کے دوران حملے کیے گئے ہیں۔ یہ مظاہرے مختلف مسلم ممالک میں امریکہ میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم بنائی جانے کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
اس سے پہلے سوڈان نے یہ کہہ کر امریکی فوجیوں کو سفارتخانے کی حفاظت کے لیے آنے سے روک دیا تھا کہ ملک کی فوج خود امریکی سفارتخانے کی حفاظت کر سکتی ہے۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ سوڈانی حکومت نے دہشتگرد تنظیموں کی کارروائیاں روکنے کے لیے چند اقدامات کیے ہیں تاہم دہشتگردی کے خطرات کا عنصر پھر بھی موجود ہے۔
جمعے کو سوڈانی دارالحکومت خرتوم میں امریکی سفارتخانے پر ہونے والے حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شہر میں جرمنی اور برطانیہ کے سفارتخانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
تیونس میں ان مظاہروں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

’ ہمارے پیغمبر کی بے حرمتی نا قابلِ قبول ہے تاہم پر امن مظاہروں کا پرُ تشدد ہونا بھی درست نہیں‘ ۔ مصری وزیرِ اعظم
اس سے پہلے لیبیا میں فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں امریکی سفیر سمیت تین امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
دوسری جانب القائدہ نے مغربی ممالک کے سفارتخانوں پر مزید حملوں کے لیے کہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی اچھی بات ہے اور ان تمام کاوشوں کا ایک ہی مقصد ہونا چاہیے اور وہ ہے کہ مسلمان ممالک سے امریکی سفارتخانوں کو نکالنا۔
اس سے پہلے سنیچر کو مصری وزیرِ اعظم ہشام قندیل نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ لوگوں کو اسلام کی بے حرمتی کرنے سے روکنے کے لیے امریکی حکومت کو تمام تر ممکنہ اقدامات کرنے چاہیئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پیغمبر کی بے حرمتی نا قابلِ قبول ہے تاہم پر امن مظاہروں کا پرُ تشدد ہونا بھی درست نہیں۔






























