
امریکہ کے خلاف عرب ممالک میں پھیلنے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد امریکہ کے صدر براک اوباما نے وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک میں موجود امریکیوں کے تحفظ کے لیے جو بھی ضروری ہوگا کیا جائے گا۔
صدر اوباما نے غیر ملکی حکومتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہاں رہنے والے امریکیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں کیونکہ یہ ان کی ذمے داری ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس فلم کی مذمت کرتے ہوئے اسے قابلِ نفرت اور غلط اقدام قرار دیا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ اس فلم کے مواد اور اس سے دیے جانے والے پیغام کو قطعی طور پر رد کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس فلم کی بنیاد پر تشدد نہیں کیا جانا چاہئیے۔
امریکہ میں اسلام پر بنی ایک فلم کے کچھ اقتباسات کو انٹرنیٹ پر دیکھے جانے کے بعد مصر سے شروع ہونے والے مظاہرے پوری عرب دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ کئی ممالک میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کی جھڑپیں ہوئیں۔ فلم کے خلاف یمن، مصر، مراکش، سوڈان، تیونس میں احتجاج ہو رہا ہے۔ تیونس مظاہرین نے امریکی سفارت خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔
ایران، بنگلہ دیش میں ڈھاکہ، عراق میں بصرہ میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں، جن میں امریکی پرچم جلایا گیا۔
امریکی حکام نے کہا کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ لیبیا میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے پیچھے کوئی شدت پسند سازش تھی یا صرف فلم کی وجہ سے لوگوں کی ناراضی کا نتیجہ تھا۔
لیبیا میں اس قتل اور حملے کے سلسلے میں کچھ گرفتاریاں کی گئی ہیں۔
یمن میں مظاہرین دارالحکومت صنعا واقع امریکی سفارت خانے میں سکیورٹی اہلکاروں کا گھیرا توڑتے ہوئے داخل ہو گئے اور امریکی پرچم کو جلا دیا۔

پولیس اہلکاروں نے مظاہرین پر قابو پانے کی کوشش میں فائرنگ کی ہے لیکن وہ انہیں احاطے میں داخل ہونے سے نہیں روک پائے۔ بہت سے لوگ اس واقعے میں زخمی ہوئے تاہم بعد میں سیکورٹی فورسز نے انہیں منتشر کر دیا۔
صنعا میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کے اندر کئی گاڑیوں کو آگ لگی دی گئی ہے۔
منگل کو لیبیا کے شہر بن غازي میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں امریکی سفیر سمیت تین امریکی اور دس ليبيائي شہری مارے گئے تھے۔
ادھر مصر میں مسلسل تیسرے روز امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین امریکی سفیر کو ملک سے باہر نکالے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جب کہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔
مصر کی وزارتِ صِحت کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران دو سو چوبیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مصر کے صدر محمد مرسي نے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری عرب دنیا میں غصے کی لہر چل رہی ہے لیکن انہوں نے تمام غیر ملکیوں اور سفارت خانوں کی حفاظت کرنے کا وعدہ گيا ہے۔






























