
امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز کی ہلاکت مبینہ طور پر دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر ہونے والے حملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔
اس حملے میں لیبیا میں امریکی سفیر کے علاوہ قونصل خانے کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز ہونے والا یہ حملہ ایک پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انداز میں کیا گیا۔
واشنگٹن میں امریکی محمکہِ دفاع کے مطابق امریکی مریئنز (کمنانڈوز) کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک ٹیم کو لیبیا میں بھیجا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کو بھی لیبیا کے ساحل کے قریب احتیاطی تدبیر کے طور پر بھیجا جا رہا ہے۔
اس حملے میں جہادی تنظیموں سے منسلک گروہوں کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
" لیبیا کی سکیورٹی فورسز نے امریکی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، لیبیا کے عام شہریوں نے دیگر امریکی اہلکاروں کو حفاظتی مقامات پر پہنچایا اور لیبیا کے شہریوں نے ہی سفیر کرسٹوفر سٹیونز کی لاش کو اٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔"
امریکی صدر باراک اوباما
مسلح افراد نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف فلم پر احتجاج کے دوران قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے میں لیبیا کے دس شہریوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ملی۔
لیبیا کے ایک اہلکار نے بتایا تھا کہ کرسٹوفر سٹیونز حملے کے بعد دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے لیبیا میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ امریکہ اور لیبیا کی حکومتوں کے درمیان روابط نہیں توڑے گا۔
صدر اوباما نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’امریکہ تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور ہم دوسروں کے مذاہب کی بے حرمتی کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہیں مگر اس طرح کے بے معنی تشدد کا کوئی جواز نہیں بنتا‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات خاص طور پر افسوس ناک ہے کہ کرسٹوفر سٹیونز کی ہلاکت بن غازی میں ہوئی کیونکہ یہ ان شہروں میں سے ہے جنہیں بچانے میں ان کا کردار تھا۔

امریکہ نے دو بحری جنگی جہاز لیبیا کے ساحل کی طرف روانہ کر دیے ہیں
صدر اوباما نے بتایا کہ لیبیا کی سکیورٹی فورسز نے امریکی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، عام شہریوں نے دیگر امریکی اہلکاروں کو حفاظتی مقامات پر پہنچایا اور شہریوں نے ہی سفیر کرسٹوفر سٹیونز کی لاش کو اٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔
لیبیا کی نگراں حکومت کے رہنماء محمد مغارف نے امریکہ سے ان ہلاکتوں پر معافی مانگی ہے اور اس حملہ کو ’بزدلانہ اور مجرمانہ‘ قرار دیا ہے۔
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے بی بی سی کی رعنا جواد کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں انصار الشریعہ نامی گروہ ملوث تھا تاہم گروہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
فلم کی مخالفت میں لیبیا کے علاوہ مصر میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ دارالحکومت قاہرہ میں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کی دیوار پھلانگتے ہوئے امریکی جھنڈا اتار کر پھینک دیا تھا۔
مصر میں ہزاروں مظاہرین نے آزادیِ اظہار کے بہانے پیغمبرِ اسلام کی توہین کیے جانے کی سخت مذمت کی جبکہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔






























